حماس دہشت گرد نہیں بلکہ اپنے حق کے لیے جہاد کر رہا ہے، حماس ہمارے ماتھے کا جھومر ہے، جماعت اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
ملتان میں احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی ملتان کے امیر کا کہنا تھا کہ 2 ملین لوگ کیمپوں میں رمضان گزار رہے ہیں، غزہ میں 48 ہزار لوگوں کو شہید کیا گیا ہے جس میں زیادہ خواتین اور بچے ہیں، عالمی چارٹر کے تحت یہ کھلی نسل کشی ہے جو اسرائیل کررہا ہے جس میں اسے امریکہ برطانیہ اور یورپ مدد فراہم کر رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی ملتان صہیب عمار صدیقی نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کے مظالم امریکی پشت پناہی میں جاری ہیں، لیکن عالمی ضمیر اور امت مسلمہ اس قتل عام پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، غزہ میں ہزاروں افراد شہید اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، نیتن یاہو دہشت گرد امریکہ کے تعاون سے فلسطین میں کھلی دہشت گردی کر رہا ہے، پاکستانی قوم مظلوموں کے ساتھ اور ظالموں کے خلاف ہے جبکہ حکمران خاموش ہوکر جابروں کا ساتھ دے رہے ہیں، حماس دہشت گرد نہیں بلکہ اپنے حق کے لیے جہاد کر رہا ہے، حماس ہمارے ماتھے کا جھومر ہے، پاکستان کی عوام ہمیشہ اہل فلسطین کے ساتھ رہے ہیں اور ان مصائب اور پریشانیوں میں بھی25 کروڑ پاکستانی فلسطینیوں کے ساتھ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی ملتان کے زیراہتمام جامع العلوم معصوم شاہ روڈ کے سامنے غزہ کی مظلوم عوام سے اظہار یکجہتی اور صیہونی ریاست کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر خواجہ عاصم ریاض سیکرٹری جنرل ملتان، حافظ محمد اسلم نائب امیر ضلع، مرزا تنویر احمد نائب امیر ضلع، اسد منیر نائب امیر ضلع، رانا فیضان جہانگیر ڈپٹی جنرل سیکریٹری، معاذ امجد ڈپٹی جنرل سیکریٹری، حنظلہ سلیم ڈپٹی جنرل سیکریٹری، یحیی عبداللہ ڈپٹی جنرل سیکریٹری اور دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔ صہیب عمار صدیقی نے کہا کہ 2 ملین لوگ کیمپوں میں رمضان گزار رہے ہیں، غزہ میں 48 ہزار لوگوں کو شہید کیا گیا ہے جس میں زیادہ خواتین اور بچے ہیں، عالمی چارٹر کے تحت یہ کھلی نسل کشی ہے جو اسرائیل کررہا ہے، جس میں اسے امریکہ برطانیہ اور یورپ مدد فراہم کررہے ہیں، مسلم ممالک کی بے حسی اور خاموشی بھی اس کو مزید مظالم کرانے میں مدد کررہی ہے، اسرائیل ہمارے بچوں کو شہید کرسکتا ہے ہمارے مجاہدوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا، نیتن یاہو گریٹر اسرائیل کی بات کررہاہے اسرائیل حرم تک جانے کی بات کررہاہے مگر کوئی تحفظ کے لیے کھڑا نہیں ہورہاہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس امت کا فرض کفایہ ادا کررہا ہے، مسلمان ممالک کے حکمران اپنے لوگوں کو فتح کررہے ہیں، حماس فلسطین کی اصل فورس ہے وہ جمہوری عمل کے ذریعے اقتدار میں آئے، حکومت پاکستان ہوش کے ناخن لے اور مظلوم فلسطینیوں کی مکمل داد رسی کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کر رہا ہے رہے ہیں
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی