ٹیکس اصلاحات میں پیش رفت ،وزیرِاعظم کے خصوصی اقدامات سے قومی خزانے کو 31 اعشاریہ5ارب روپے کا فائدہ
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
ٹیکس اصلاحات میں پیش رفت ،وزیرِاعظم کے خصوصی اقدامات سے قومی خزانے کو 31 اعشاریہ5ارب روپے کا فائدہ WhatsAppFacebookTwitter 0 21 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)وزیرِاعظم شہباز شریف کی ہدایت پر ٹیکس اصلاحات کے سلسلے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو مجموعی طور پر 31 اعشاریہ5ارب روپے کا فائدہ پہنچا ہے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے بینکوں کی اضافی آمدن پر ٹیکس سے متعلق حکم امتناع کی درخواست خارج کر دی، جس سے قومی خزانے میں 8اعشاریہ4ارب روپے کی وصولی ممکن ہو سکی جبکہ ایک ماہ مجموعی طور پر ساڑھے 31 ارب روپے کا فائدہ ہوا۔ اس سے قبل سندھ ہائی کورٹ کے فیصلوں سے 23 ارب روپے کا فائدہ ہوا تھا۔وزیرِاعظم شہباز شریف نے ونڈ فال انکم ٹیکس کے کیسز کا نوٹس لیتے ہوئے وزیرِ قانون، اٹارنی جنرل اور وزیرِ خزانہ کو مقدمات کی موثر پیروی کی ہدایت کی تھی۔
انہوں نے اس کامیابی پر وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، محمد اورنگزیب، اٹارنی جنرل منصور اعوان اور ان کی قانونی ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی اقدام ہے جو ملکی معیشت کے استحکام میں مددگار ثابت ہوگا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ 31اعشاریہ5ارب روپے کی خطیر رقم قومی خزانے میں جمع ہوئی ہے، اس رقم سے صحت، تعلیم و دیگر عوامی فلاحی منصوبے بنائے جائیں گے،ان شااللہ اسی طرح کے مزید اقدامات سے پاکستان کو بہت جلد خود کفیل بنائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: روپے کا فائدہ
پڑھیں:
بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
اسلام آباد:وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔
بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔
دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔