وزیراعظم شہباز شریف نے سول سروسز اسٹریکچر میں اصلاحات کے لیے کمیٹی قائم کردی ہے، کمیٹی 30 دن میں اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

جمعرات کے روز وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت سول سروسز کی اصلاحات پر جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں سول سروسز اصلاحات سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: پولیس کا اصل امتحان میدانِ عمل میں ہوگا جہاں انہیں عام آدمی کو انصاف فراہم کرنا ہے، وزیراعظم شہباز شریف

وزیر اعظم شہباز شریف نے سول سروسز کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، سول سروسز اسٹرکچر کی بہتری اور اسے جدید خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے سفارشات مرتب کرنے کے لیے وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی، کمیٹی ایک ماہ میں تفصیلی مشاورت کے بعد اصلاحات پر مبنی جامع سفارشات پیش کرے گی۔

وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ کمیٹی میرٹ پر بہترین ٹیلنٹ کی بھرتی، ترقی کے لیے مخصوص اہداف پر مبنی کے پی آئیز، اے سی آر نظام کی بہتری و مؤثر متبادل کے حوالے سے سفارشات مرتب کرکے پیش کرے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی و جدید نظام کے حوالے سے افسران کی استعداد کار کو بڑھانے کے لیے لائحہ عمل بھی سفارشات کا حصہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی بندرگاہوں سے وسطی ایشیا تک تجارت کا نیا باب کھلنے کو ہے، وزیراعظم شہباز شریف

وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ’سول سروس اصلاحات حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں، تاکہ عام آدمی کی زندگی کو آسان بنایا جا سکے۔‘ انہوں نے زور دیا کہ سفارشات ایسی ہوں جو ایک پائیدار اور مؤثر نظام کی بنیاد بنیں اور سول سروس کو وقت کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کا مستقل نظام قائم کریں۔

اجلاس کو سول سروسز اصلاحات کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ سول سروسز میں بھرتی، ٹریننگ، کارکردگی کے جائزے، تنخواہوں کی بہتری اور ترقی کے حوالے سے مشاورت کے بعد تجاویز مرتب کی جارہی ہیں۔ اجلاس کو خطے کے دوسرے ممالک میں سول سروسز کی اصلاحات کا پاکستان کے ساتھ تقابلی جائزہ بھی پیش کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گورننس کی بہتری، عام شہری کی زندگی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ بہترین ٹیلنٹ کی میرٹ پر بھرتیوں کو سول سروسز اصلاحات کا محور رکھتے ہوئے سفارشات کو حتمی شکل دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: معاشی ترقی فرسودہ نظام میں اصلاحات کے بغیر ممکن نہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، سردار اویس خان لغاری، علی پرویز ملک، مشیر وزیرِ اعظم رانا ثناء اللہ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی ہارون اختر، طارق باجوہ، ڈاکٹر جہانزیب خان سیکریٹری ایپکس کمیٹی ایس آئی ایف سی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اصلاحات سول سروسز شہباز شریف وزیراعظم.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اصلاحات سول سروسز شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف اعظم شہباز شریف کے حوالے سے اصلاحات کے سول سروسز کی بہتری کے لیے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری