مصنوعی ذہانت کے استعمال سے گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کی آمدنی میں نمایاں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
سان فرانسسکو (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2025ء) انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل کی پیرنٹ کمپنی ’’الفابیٹ‘‘ کی آمدنی میں رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس میں مصنوعی ذہانت کا کلیدی کردار رہا۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اس کے ہر شعبے میں مثبت تبدیلی لا رہی ہے اور کمپنی نے رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں 28.
(جاری ہے)
رپورٹ کے مطابق گوگل کی سرچ آمدنی میں ڈبل ہندسوں میں اضافہ ہوا ہے، اے آئی اوورویوز اور نیا متعارف کردہ اے آئی موڈ اچھی کارکردگی دکھا رہے ہیں، یوٹیوب سے اشتہارات اور سبسکرپشن آمدنی میں بھی اضافہ جاری ہے۔کمپنی کے مطابق الفابیٹ کی کلاؤڈ کمپیوٹنگ سروسز سالانہ بنیادوں پر 50 ارب ڈالر کمانے کی راہ پر گامزن ہیں۔پچائی نے کہا کہ ہم اپنے کلاؤڈ پروڈکٹس اور سروسز کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر 2025 میں سرمایہ کاری کو 85 ارب ڈالر تک بڑھا رہے ہیں اور ہمیں مستقبل کے امکانات سے بہت امید ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کے مطابق ارب ڈالر رہی ہے
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔