WE News:
2026-07-24@08:38:27 GMT

سعودی عرب کا شام میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT

سعودی عرب کا شام میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلان

دمشق کے دورے پر آئے ہوئے ایک سعودی وفد نے شام میں تعمیر نو اور ترقی کے لیے 5 ارب ڈالر مالیت کے سرمایہ کاری اور شراکتی معاہدوں کا اعلان کیا ہے،

تقریباً 150 افراد پر مشتمل اس وفد میں سعودی عرب کے سرکاری و نجی شعبوں کے نمائندے شامل تھے، جن کی قیادت سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح کر رہے تھے، جنہوں نے دمشق میں ایک اقتصادی فورم میں شرکت بھی کی۔

سعودی وزارت سرمایہ کاری کے مطابق یہ فورم دونوں برادر ممالک کے عوام کے مفاد میں پائیدار ترقی کے لیے تعاون کے مواقع تلاش کرنے اور معاہدوں پر دستخط کے لیے منعقد کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب کی شامی عوام کے لیے حمایت اور عالمی برادری سے یکجہتی کی اپیل

سعودی وزارت کے اعلامیے کے مطابق، تقریباً 5 ارب ڈالر کی اعلان کردہ سرمایہ کاری میں ریئل اسٹیٹ، بنیادی ڈھانچہ، مواصلات و آئی ٹی، ٹرانسپورٹ، صنعت، سیاحت، توانائی، تجارت اہم اور اسٹریٹجک شعبے شامل ہیں۔

یہ دورہ شام کی اقتصادی بحالی اور تعمیر نو میں سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور حمایت کو ظاہر کرتا ہے، دورے کے دوران وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح اور شام کے وزیرِ معیشت محمد نضال الشعار نے عدرا انڈسٹریل سٹی میں فیحا وائٹ سیمنٹ فیکٹری کا افتتاح کیا، جو شام میں اپنی نوعیت کی پہلی فیکٹری ہے۔

یہ فیکٹری سعودی نارتھ ریجن سیمنٹ کمپنی کی 2 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری سے قائم کی گئی ہے اور اس سے براہِ راست 130 جبکہ بالواسطہ 1,000 سے زائد افراد کو روزگار ملے گا۔ کمپنی کے سی ای او عبید الصبیعی کے مطابق یہ منصوبہ شام کی تعمیر نو اور علاقائی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کے سعودی عزم کا عکاس ہے۔

مزید پڑھیں:سعودی عرب اور قطر نے شام کے ذمہ قرض ورلڈ بینک کو ادا کردیا

اس کے علاوہ، سعودی عرب دمشق کے مرکز میں 32 منزلہ الجوہرہ ٹاور کی تعمیر بھی کرے گا، جس پر 10 کروڑ ڈالر سے زائد لاگت آئے گی اور یہ منصوبہ سعودی عرب کی شام میں سب سے بڑی سرمایہ کاریوں میں سے ایک ہو گا۔

اپریل میں سعودی عرب اور قطر نے شام کے عالمی بینک کے 15 ملین ڈالر کے قرض کی ادائیگی کے لیے مشترکہ اقدام کا اعلان کیا تھا، گزشتہ ماہ وزیر خالد الفالح نے شامی وزیر معیشت سے ورچوئل ملاقات بھی کی، جس میں عوامی و نجی شعبوں میں باہمی تعاون کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔

شامی حکومت نے اس مہینے ملک کے سرمایہ کاری قانون میں ترمیم کی ہے، جس سے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملنے کی توقع ہے، گزشتہ ہفتے سعودی وفد کی آمد پر شامی وزیر معیشت نے کہا کہ نیا قانون سرمایہ کاری کے لیے موزوں قانونی ماحول فراہم کرتا ہے اور نجی شعبے کے کردار کو مزید وسعت دے گا۔

سعودی-شامی تجارتی تعلقات میں تیزی

سعودی جنرل اتھارٹی برائے شماریات کے مطابق اپریل میں شام سعودی عرب کی 53ویں سب سے بڑی برآمدی منزل تھا، جہاں سعودی نان آئل برآمدات میں سال بہ سال 153.

3 فیصد اضافہ ہوا، ان برآمدات میں 33 فیصد پلاسٹک و ربڑ،  26 فیصد زرعی اجناس اور 14 فیصد تیار شدہ غذائی اشیا و مشروبات شامل ہیں۔

درآمدات کے لحاظ سے شام سعودی عرب کے 60ویں تجارتی پارٹنر کے طور پر سامنے آیا، جہاں سے درآمدات 78.5 ملین سعودی ریال تک پہنچیں، جس میں 149.7 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ان میں زیادہ تر زرعی مصنوعات، خوردنی تیل، اور تیار شدہ خوراک شامل ہیں۔

یہ تجارتی پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان سیاسی تعلقات کی بحالی کے بعد ممکن ہوئی ہے، مئی 2024 میں سعودی عرب نے 12 سال بعد دمشق میں اپنا سفارتخانہ دوبارہ کھولا۔

مزید پڑھیں:سعودی ولی عہد کا شام میں کشیدگی پر قابو پانے کے اقدامات کا خیرمقدم

واضح رہے کہ شام میں تیل کی برآمدات 2011 میں خانہ جنگی اور پابندیوں کے بعد تقریباً ختم ہو چکی ہیں، اور ملک اب ایران جیسے اتحادیوں پر انحصار کرتا ہے، تجارتی حجم میں حالیہ اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب سیاسی عزم شامل ہو تو اقتصادی تعلقات کس قدر تیزی سے بحال ہو سکتے ہیں۔

2010 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 1.3 ارب ڈالر تک پہنچا تھا۔ شام نے اس وقت سعودی عرب کو 543 ملین ڈالر کی اشیا برآمد کیں، جن میں پھل، سبزیاں، ٹیکسٹائل، اور فرنیچر شامل تھے، جبکہ سعودی عرب سے تیل کی مصنوعات، پیٹروکیمیکلز، کھجوریں اور نباتاتی تیل برآمد کیے جاتے تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

برآمدات تجارتی پارٹنر تجارتی حجم تعمیر نو تیل خالد الفالح خوردنی تیل ریئل اسٹیٹ زرعی اجناس زرعی مصنوعات سعودی عرب شام مواصلات

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: برا مدات تجارتی پارٹنر تجارتی حجم تیل خوردنی تیل ریئل اسٹیٹ زرعی مصنوعات مواصلات سعودی عرب کی سرمایہ کاری کے مطابق ارب ڈالر ڈالر کی کرتا ہے کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ

امریکا آج سے پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات(tarrif) نافذ کر رہا ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا، یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت آج ختم ہو رہی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے، ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔

مزیدپڑھیں:میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا

امریکا کے حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔

آسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔

کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔

کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔

تجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • چین کا ایک اور کامیاب خلائی مشن، 5 سیٹلائٹس مقررہ مدار میں داخل
  • عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی