کراچی: جماعت اسلامی کی غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف پر احتجاجی ریلی
اشاعت کی تاریخ: 21st, March 2025 GMT
جماعت اسلامی کی جانب سے غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف کراچی میں امریکی قونصلیٹ کے قریب احتجاجی ریلی نکالی گئی۔
پولیس نے مارچ کے شرکاء کو امریکی قونصلیٹ جانے سے روک دیا، اس موقع پر کارکنوں اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی، کارکنوں کی جانب سے زبردست نعرے لگائے گئے۔
مظاہرین نے بوٹ بیسن پر استقبالیہ کیمپ لگایا جہاں سے شرکا نے بینرز اور پلے کارڈز، مخصوص فلسطینی رومال اور فلسطینی پرچم حاصل کیے۔
مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ غزہ میں قتلِ عام بند کیا جائے، بین الاقوامی برادری غزہ میں اسرائیلی دہشتگردی کے خلاف آواز بلند کرے۔
پولیس نے امریکی قونصلیٹ کی طرف جانے والے ریلی کے شرکا کو مائی کولاچی پر روک دیا جس پر مظاہرین اور پولیس میں تلخ کلامی بھی ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔