غزہ میں اسرائیلی دہشتگردی کیخلاف ملک گیر یوم احتجاج، لاہور میں امریکی قونصل خانے کے باہر مارچ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, March 2025 GMT
لاہور:
غزہ میں امریکی تعاون سے جاری اسرائیلی دہشت گردی اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے خلاف ملک بھر میں یوم احتجاج منایا گیا۔
ملک کے مختلف شہروں میں نماز جمعہ کے بعد جماعت اسلامی کی جانب سے احتجاجی مظاہرے منعقد ہوئے جس میں شہریوں کی کثیر تعداد نے شریک ہوکر اپنا پر امن احتجاج ریکارڈ کرایا۔
لاہور میں جماعت اسلامی کے تحت مسجد شہدا سے امریکی سفارت خانے تک مارچ کیا گیا جس میں ہزاروں افراد نے شریک ہوکر امریکا اور اسرائیلی دہشت گردی کی پر زور مذمت کی۔ اس موقع پر سفارت خانے کے باہر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کیلئے پولیس کی بھاری نفری بھی موجود تھی۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے لاہور میں امریکی سفارت خانہ کے باہر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کی نسل کشی میں امریکا برابر کا شریک ہے، آرمی چیف کو فلسطینیوں کی حمایت میں بیان دینا چاہئے اور اسلام آباد میں دنیا کے فوجی سربراہوں کا اجلاس بلاکر پیغام دینا چاہئے اگر تم آگے بڑھے تو ہم بھی آگے بڑھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کچھ صحافی پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل گئے ہیں، حکومت آج ہی موقف قوم کے سامنے پیش کرے، اگر حکمرانوں نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا ایک قدم بھی بڑھایا تو انکے قدم توڑ دیں گے اور یہ عبرت کا نشان بن جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم حکمران خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں، کیا مسلم دنیا کے پاس ٹینک یا میزائل ختم ہوگئے ہیں؟، اگر ہمارے بچے شہید ہورہے ہیں تواگر اس کی ذمہ داری اسرائیل یا امریکا پر ہے تو مسلم دنیا کی فوج اور سپہ سالاروں پر بھی ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ اگر حکمرانوں نے فلسطینیوں کےلیے کردار ادا نہ کیا تو پھر اگلا مارچ سفارت خانہ کے اندر ہوگا، وزیر اعظم سے پوچھتا ہوں اسرائیل دہشت گردی کی تازہ لہر میں بچوں کو شہید کررہا ہے تو شہبازشریف نے کیا کردار ادا کیا ہے؟۔
انہوں نے کہا کہ شہباز شریف سعودی عرب کے دورہ پر ہیں تو وہ اسرائیلی دہشت گردی پر مشترکہ اعلامیہ جاری کریں، دنیا کو پتہ ہے کہ پاکستان کے پاس میزائل اور نیوکلئیر بم موجود ہے، جب ہم نے ایٹمی دھماکے کئے تو پورا عالم اسلام خوش ہوا تھا، ایٹم بم صرف پاکستان کا نہیں پوری امت کا ہے۔
حافظ نعیم نے اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکی غلام ہیں اور اپنی مدت کےلئے امریکا کی طرف دیکھتے ہیں، امریکا ان کے سر پر ہاتھ رکھ لیں تو جمہوریت کو بھی الٹ دیتے ہیں۔
حافظ نعیم نے کہا کہ پاکستان کی اپوزیشن اور حکومت میں دوڑ لگی ہوئی ہے کہ کون پہلے امریکا کے پائوں چھوکر آشیر باد حاصل کرتا ہے، ن لیگ یا پیپلزپارٹی سب سے کہتا ہوں سامنے آکر امریکا و اسرائیلی دہشت گردی کی مذمت کرو۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان اسرائیلی دہشت گردی حافظ نعیم نے کہا کہ گردی کی
پڑھیں:
مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔
اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔
دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔
اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔