کوئٹہ(نیوز ڈیسک)کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے جعفر ایکسپریس آپریشن میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی لاشوں کی فراہمی کے لیے پرتشدد احتجاج کیا۔ کمشنر آفس کوئٹہ کے مطابق، مظاہرین نے احتجاج کے دوران پولیس پر فائرنگ اور پتھراؤ کیا، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔

کمشنر آفس کے مطابق پولیس اور سول حکام نے لاشیں حوالے کرنے کا مطالبہ کیا، تاہم بی وائی سی قیادت نے اسے افغان شہریوں کی آپس کی لڑائی قرار دے کر لاشیں دینے سے انکار کر دیا۔ بعد ازاں، پولیس نے متوفی افراد کے اہل خانہ کی درخواست پر لاشیں برآمد کر کے ان کے حوالے کر دیں۔

بی وائی سی قائدین اور مسلح افراد کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں پر اکسانے کے مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، جن میں سول اسپتال پر حملہ، پرتشدد مظاہروں کو بھڑکانے سمیت دیگر الزامات شامل ہیں۔

سڑک کھولنے سے انکار پر پولیس کا لاٹھی چارج، 10 مظاہرین زخمی، متعدد گرفتار
گزشتہ روز کوئٹہ میں بلوچ یکجہتی کمیٹی نے ریلی نکالی، ریلی کے باعث سڑک کی بندش سے شہریوں کو شدید مشکلات سامنا کرنا پڑا تاہم سڑک کھولنے سے انکار پر پولیس نے لاٹھی چارج، آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جس میں 10 مظاہرین زخمی جبکہ متعدد کو گرفتار کرلیا گیا۔

اسپتال انتظامیہ نے بتایا کہ بولان میڈیکل کمپلیکس میں سریاب سے 2 لاشیں لائی گئیں۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق ایک لاش اور دس زخمیوں کو سول اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند کا کا کہنا ہے کہ قومی شاہراہ بند کرکے عوام کو مشکلات سے دوچار کیا، شاہراہ کی بندش کے باعث کراچی اور دیگر شہروں سے آنے والے مسافر اذیت سے دوچار ہوئے، پولیس نے روڈ کھلوانے کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کی تو مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ اور تشدد کیا، لیڈی پولیس کانسٹیبل اور پولیس اہلکاروں سمیت دس زخمی افراد اسپتال لائے گئے۔

شاہد رند نے مزید کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی نے کس کی میتیں روڑ پر رکھ کر احتجاج کیا، تعین ہونا باقی ہے، جب تک متوفیان کی لاشیں اسپتال لاکر ضابطے کی کارروائی مکمل نہیں کی جاتی وجوہات کا تعین ممکن نہیں، امن و امان میں خلل ڈال کر افراتفری پھیلائی جاررہی ہے۔

ترجمان بلوچستان حکومت نے مزید کہا کہ کسی کو بھی قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، قانون ہاتھ میں لے کر نقص امن کا ارتکاب کیا جائے گا تو حکومت خاموش تماشائی نہیں بن سکتی، عوام کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے جسے پورا کیا جائے گا۔
مزیدپڑھیں:بھارتی کمپنی ہوا سے پینے کا پانی بنانے لگی

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مطابق

پڑھیں:

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک

فائل فوٹو۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 17دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ 

مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے یہ آپریشنز 24 مئی کے ٹرین واقعہ کے بعد کیے، جو مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ کے اضلاع میں کیے گئے۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی ہلاکت سے ان علاقوں میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو بہت زیادہ نقصان ہوا، ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، بڑی مقدار میں بارودی مواد اور آئی ای ڈیز برآمد کیے گئے۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد علاقے میں متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔ ان علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی اداروں کی ملک گیر انسدادِ دہشت گردی مہم بھرپور انداز میں جاری رہے گی اور ملک سے بیرونی حمایت یافتہ دہشت گردی کے خطرے کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد