مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے 2 اہلکار مارے گئے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, March 2025 GMT
لداخ کی سرحد پر بھارتی فوج کے دو اہلکار ڈیوٹی کے دوران مارے گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت حوالدار کشور بارا اور سپاہی سورج کمار کے ناموں سے ہوئی ہے۔
تاہم بھارتی فوج کے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ دونوں اہلکار کی ہلاکت کیوں اور کس طرح ہوئیں۔ مقتولین کے اہل خانہ بھی بے خبر ہیں۔
بھارتی فوج کے مارے گئے اہلکاروں کے لواحقین کا مطالبہ ہے کہ کم از کم ان کے پیاروں کی موت کی وجہ بتائی جائے۔
بھارتی میڈیا کو ان اہلکاروں کی موت کے حوالے سے معلومات فراہم نہیں کی جا رہی ہیں اور کسی کو جائے وقوعہ پر جانے کی اجازت نہیں۔
خیال رہے کہ لداخ کے اس علاقے میں بھارتی فوج اور عسکریت پسندوں کے ساتھ ساتھ چین کی بارڈر فورسز کے ساتھ بھی سرحدی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔
یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دونوں اہلکار بھارتی فوج کی بچھائی گئی بارودی سرنگ کا شکار بن گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی فوج کے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔