چینی کی قیمت اور وفاقی وزراء کی تنخواہیں شہباز اسپیڈ سے بڑھ رہی ہیں: بیرسٹرسیف
اشاعت کی تاریخ: 24th, March 2025 GMT
رہنما پی ٹی آئی بیرسٹر محمد علی سیف---فائل فوٹو
مشیرِ اطلاعات خیبر پختون خوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ چینی کی قیمت اور وفاقی وزراء کی تنخواہیں شہباز اسپیڈ سے بڑھ رہی ہیں۔
بیرسٹر محمد علی سیف نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے سرکولیشن سمری کے ذریعے وزراء کی تنخواہوں میں 188فی صد اضافے کی منظوری دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ چینی کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ ہے کہ حکمران اور چینی کے کارخانوں کے مالکان ایک ہی ہیں۔
مشیرِ اطلاعات خیبر پختون خوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ قومی سلامتی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلانے والے بتائیں نواز شریف کیوں نہیں آئے؟
بیرسٹرسیف کا کہنا ہے کہ شوگر مافیا نے ناجائز منافع سے اپنی عید میٹھی اور عوام کی عید پھیکی کر دی ہے، عرفان صدیقی سے اپیل ہے شہباز شریف سے کہیں تنخواہ لے لیں، چینی کی قیمت کم کرا دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بیرسٹر محمد علی سیف چینی کی
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔