آڈیو لیکس کیس؛ علی امین گنڈا پور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار
اشاعت کی تاریخ: 25th, March 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے آڈیو لیکس کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رکھنے کا حکم دیا۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف آڈیو لیک کیس کی سماعت ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ہوئی۔ علی امین گنڈا پور کے وکیل راجا ظہور الحسن ایڈوکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔ شریک ملزم اسد فاروق عدالت میں پیش ہوئے اور حاضری لگائی۔
علی امین گنڈاپور کے مسلسل غیر حاضر ہونے کی بنا پرعدالت نے پہلے سے جاری ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقراررکھے۔ کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج عبدالغفور کاکڑ کے سیشن جج کے چارج سنبھالنے اور متعلقہ کورٹ میں کسی اور جج کے ٹرانسفر نہ ہونے کی وجہ سے بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی۔عدالت نے کیس 18 اپریل کو سماعت کےلئے مقرر کردیا۔ علی آمین اور اسد فاروق کے خلاف تھانہ گولڑہ میں مقدمہ درج ہے۔
گندم اگانے والے کاشتکاروں کیلئے ایک ہزار مفت ٹریکٹر کا اعلان
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: علی امین
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز