توہین رسالت کیس میں عدالت کا بڑا فیصلہ، 5مجرموں کو پھانسی،عمر قید اور 65لاکھ روپے جرمانے کی سزا WhatsAppFacebookTwitter 0 25 March, 2025 سب نیوز

راولپنڈی (سب نیوز)توہین رسالت اور توہین قرآن پاک کیس میں راولپنڈی کی مقامہ عدالت نے بڑا فیصلہ دیتے ہوئے عدالت 5 مجرمان کو پھانسی ،عمر قید اور 80 سال قید سخت سنا دی۔
رپورٹ کے مطابق عدالت نے فیصلے میں کہا کہ پانچوں مجرمان کو مجموعی 65 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا، مجرمان محمد ارسلان، علی عباس، فیصل ریحان، خرم افضال اور زنیر سکندر کو سزا سنائی گئی۔ مجرمان کے خلاف ایف آئی اے سائبر کرائم نے مقدمہ درج کیا تھا، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طارق ایوب نے فیصلہ سنا دیا۔
فیصلہ بعد پانچوں مجرمان کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا، عدالت نے قرار دیا کہ مجرمان نے گھنانا جرم کیا ہے یہ کسی رعایت کے مستحق نہیں، مجرمان کو اس وقت تک پھانسی پھندا پر لٹکائے رکھا جائے جب تک موت واقع نا ہو۔فیصلہ سنائے جانے کے وقت انتہائی سخت سیکیورٹی تھی جبکہ بڑی تعداد میں وکلا اور شہری موجود تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا


فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔

سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔

سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی