اسلام ٹائمز: آل پارٹیز القدس سیمینار سے خطاب میں مقررین نے کہا کہ اقوام متحدہ، او آئی سی مسلم حکمران غزہ میں فوری جنگ بندی اور غذائی و طبی سمیت ہر قسم کی امداد پہنچانے میں اسرائیلی ظالمانہ رکاوٹوں کو ختم کرنے کیلئے بھرپور طاقت کے ساتھ موثر کارروائی عمل میں لائیں، حماس اور حزب اللہ سمیت دیگر شہدائے مقاومت فلسطین کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، جن کی عظیم شہادتوں نے مجاہدین کے جذبوں حوصلوں کو بلند کرکے نئی جلا بخشی ہے۔ متعلقہ فائیلیںاسلام ٹائمز۔ متحدہ علماء محاذ پاکستان کے زیر اہتمام مرکزی صدر علامہ مرزا یوسف حسین کی زیر صدارت، بانی سیکریٹری جنرل مولانا محمد امین انصاری کی میزبانی میں مقامی ہال گلشن اقبال میں منعقدہ 17واں سالانہ بسلسلہ عالمی یوم القدس جمعة الوداع، آل پارٹیز القدس سیمینار میں شریک مختلف مکاتب فکر کے جید علماء مشائخ، سیاسی زعماء، دانشور، صحافی، وکلاء، تاجر، شاعر و ممتاز شخصیات نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبلہ اول بیت المقدس پر اسرائیلی غاصبانہ قبضہ اور انسانیت سوز وحشیانہ جارحیت کے خلاف آزادی القدس اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے، بانی اسلامی انقلاب ایران آیت اللہ امام خمینی کے فرمان پر 27 رمضان جمعة الوداع کو عالمی یوم القدس جوش و جذبے کے ساتھ منائیں گے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری غیر قانونی، ناجائز و جرم ہے، قرارداد مقاصد پاکستان میں بھی فلسطین میں جبری یہودی آبادکاری کی مخالفت و مذمت کی گئی ہے۔

سیمینار سے محاذ کے مرکزی چیئرمین علامہ عبدالخالق فریدی سلفی، جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر مسلم پرویز، فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے بانی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابومریم، جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ سید محمد عقیل انجم قادری، پاکستان مسلم لیگ علماء مشائخ کے سربراہ علامہ پیر سید ازہر علی شاہ ہمدانی، مسلم لیگ ن کراچی کے رہنما محمد اسلم خان خٹک ایڈووکیٹ، محاذ کے مرکزی نائب صدر علامہ پروفیسر ڈاکٹر سید شمیل احمد قادری حنبلی، پاکستان نظریاتی پارٹی سندھ کے ترجمان فاضل نوجوان مولانا قاری حافظ محمد ابراہیم چترالی، بزرگ عالم دین علامہ محمد حسن شریفی، ممتاز قانون دان و سماجی رہنما ناصر احمد ایڈووکیٹ، پاسٹر امانوئیل صوبہ، انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان کے مرکزی نائب امیر علامہ مفتی عبدالغفور اشرفی نے خطاب کیا۔

سیمینار میں مرکزی جماعت اہلحدیث کے رہنما علامہ مرتضیٰ خان رحمانی، مسلم اتحاد فورم پاکستان کے چیئرمین مولانا قاری سید طاہر جمال تھانوی، پاکستان امن کونسل سندھ کے صدر علامہ عبدالماجد فاروقی، مولانا قاری محمد اقبال رحیمی، الاحمر انٹرنیشنل نیوز سروسز کے ایڈیٹر ممتاز صحافی و کالم نگار قاضی سمیع اللہ، AINS نیوز کے صحافی رپورٹرز آغا علی یاور نے شرکت کو خطاب کیا، ارسلان حارث، عزیز گلگتی، وِش نیوز کے صحافی رپورٹر جواد علی، فاطمیہ ہسپتال انسٹی ٹیوٹ آف نرسنگ کے ایڈمن آفیسر محمد حسین، عافیہ موومنٹ پاکستان کے رہنما قاری امام حسین ہمدم، مسرور بیس کالج کے پروفیسر مولانا حافظ عبدالماجد انصاری، امن کونسل برائے بین المذاہب ہم آہنگی کراچی کے صدر مولانا مفتی علی المرتضیٰ، پاکستان نظریاتی پارٹی کراچی کے صدر اعجاز فضل بھی شرکت و خطاب کرنے والوں میں شامل ہیں۔

سیمینار میں تحفظ حقوق الصراف کے چیئرمین فہیم الدین انصاری، سواد اعظم اہلسنت یوتھ فورس کراچی کے صدر تحریک صوبہ ہزارہ کراچی کے رہنما مولانا پیر حافظ گل نواز خان ترک، اے این آئی کے چیئرمین طلحہ محبوب صدیقی، متحدہ علماء محاذ کے نائب صدر علامہ زاہد حسین ہاشمی مشہدی، مسلم لیگ ن کے قاضی محمد زاہد حسین نقشبندی و دیگر بھی شرکت و خطاب کرنے والوں میں شامل ہیں۔ سیمینار کے آغاز پر محاذ کے صوبائی رہنما مولانا قاری محمد اقبال رحیمی نے قرآن کریم کی تلاوت کی اور اے این آئی کے ڈپٹی کنوینئر معروف نعت و منقبت خواں محمدایاز قادری نے بارگارہ رسالتۖ میںنذرانہ عقیدت پیش کیا جبکہ ممتاز شاعر نعت و منقبت خواں ذوالفقار حیدر پرواز، خواجہ پیر سید معاذ علی نظامی اور پاکستان حمد و نعت کونسل کے رہنما مولانا محمد اسلم طیب نے فلسطین و شہدائے مقاومت کو منظوم خراج عقیدت پیش کیا۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مولانا قاری پاکستان کے صدر علامہ کے مرکزی کراچی کے کے رہنما محاذ کے کے صدر

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • کشمیر عالمی تنازع ہے،داخلی معاملہ نہیں، سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت کو دوٹوک جواب
  • کراچی میں اسٹریٹ کرائم کے خاتمے اور کچے میں ڈاکوؤں کا صفایا بڑا چیلنج ہے، آئی جی سندھ
  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت