فرحان ملک گرفتار: ریاست مخالف مواد نشر کرنے کا الزام، صحافتی برادری میں تشویش
اشاعت کی تاریخ: 25th, March 2025 GMT
کراچی: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سینئر صحافی اور یوٹیوب چینل ‘رفتار’ کے بانی، فرحان ملک، کو مبینہ طور پر ریاست مخالف مواد نشر کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔
میڈیارپورٹس کےمطابق ایف آئی اے کے ترجمان نےکہا کہ فرحان ملک اپنے یوٹیوب چینل پر ایسی ویڈیوز پوسٹ کرتے تھے جو ریاست مخالف جعلی خبروں اور عوامی اشتعال انگیزی پر مبنی تھیں۔
گرفتاری کے بعد فرحان ملک کو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے انہیں چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔
فرحان ملک کے وکیل، عبدالمعیز جعفری کا کہنا تھا کہ یہ گرفتاری بظاہر پیکا ایکٹ کی نئی دفعات کے تحت عمل میں لائی گئی ہے، فرحان ملک کو ایف آئی اے نے پوچھ گچھ کے لیے بلایا تھا اور کئی گھنٹوں کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران فرحان ملک کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ان کے مؤکل کے خلاف پہلے سے انکوائریز جاری تھیں اور سندھ ہائی کورٹ نے کارروائی نہ کرنے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہائی کورٹ کے حکم کے برعکس ایف آئی اے نے کارروائی کی ہے۔
خیال رہےکہ صحافتی تنظیموں نے فرحان ملک کی گرفتاری کی مذمت کی ہے۔ ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز (ایمنڈ) نے اس کارروائی کو ایف آئی اے کی بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اختلاف رائے کو دبانے کی کوشش ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنائے اور صحافیوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ایف آئی اے فرحان ملک
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔