اسلام آباد: (انصارعباسی)… سابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اپنےدورہ امریکا کے دوران امریکا میں مقیم تحریک انصافپارٹی کے ان رہنماؤں کے ساتھ پارٹی کی “عمران رہائی” کی مہم کو امریکہ میں فعال طور پر آگے بڑھا تے رہے ہیں۔

اس مہم میں پارٹی کے چند رہنما اورپارٹی عہدیدارایسی سرگرمیوں میں ملوث رہے جنہیں حکومت اور ریاستی ادارے “ریاست مخالف” یا “فوج مخالف” سرگرمیاں قرار دیتے ہیں۔

پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ بیرونِ ملک ان کی سرگرمیوں کا مقصد قانون کی بالادستی یقینی بنانا اور پارٹی و قیادت کے خلاف ہونے والے مبینہ انتقامی اقدامات کے خلاف آواز بلند کرنا ہے تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ان سرگرمیوں میں قومی اداروں، خصوصاً فوج اور اس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا اور بعض اقدامات سے ریاستی مفادات کو بھی نقصان پہنچا۔

بیرون ملک تحریک انصاف زیادہ ترامریکا میں سرگرم رہی لیکن نہ تو سابق بائیڈن انتظامیہ نے نہ ہی موجودہ صدر ٹرمپ نے پی ٹی آئی کی توقعات کے مطابق پاکستان پر کوئی دباؤ ڈالا۔

ڈاکٹر عارف علوی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اپنے حالیہ امریکی دورے میں انہوں نے ارکان کانگریس ہیلی سٹیونز، جیک برگمین، اور لاس ویگاس کی میئر شیلی برکلی سمیت متعدد اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں، جن میں انہوں نے عمران خان کی رہائی کا مقدمہ پیش کیا۔

اس کے علاوہ وہ فاکس نیوز پر بھی نمودار ہوئے جہاں انہوں نے الزام لگایا کہ پاکستان میں یو ایس ایڈ کے فنڈز کا استعمال انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کے لیے کیا گیا۔ انہوں نے کہا میں امریکا میں عمران خان کو آزادی دلوانے کے مشن پر ہوں۔

انہوں نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بھی بات کی اور دعویٰ کیا کہ 26 نومبر کو “درجنوں افراد” جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ڈاکٹر علوی کی یہ ملاقاتیں اور میڈیا میں شرکت پی ٹی آئی امریکہ چیپٹر کے تعاون سے ممکن ہوئیں، جن میں شہباز گل، قاسم سوری اور دیگر شامل تھے۔ ان افراد پر حکومت کی جانب سے ریاستی اداروں خصوصاً فوج کے خلاف مہم چلانے اور سوشل میڈیا پر گمراہ کن بیانیہ پھیلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

حکام کی تحقیقات کے مطابق شہباز گل اور قاسم سوری ان پی ٹی آئی رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے بیرونِ ملک فوج کے خلاف منفی مہموں میں حصہ لیا۔ ان کی کوششوں میں امریکی کانگریس میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پر قراردادیں پیش کرانے کا مقصد بھی شامل تھا۔

بعض حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنرل عاصم منیر کے خلاف بار بار منفی باتیں کی گئیں، اور امریکی کانگریس میں ایک مجوزہ قانون سازی کی بھی لابنگ کی گئی جس کا مقصد پاکستانی فوجی قیادت پر امریکی ویزا کی پابندی لگوانا تھا۔

امریکا میں مقیم پی ٹی آئی کے ایک رہنما کا سابق امریکی سفارتکار زلمے خلیل زاد سے قریبی رابطہ بھی زیرِ بحث آیا ہے، جو اکثر پاکستانی فوج پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے بیرونِ ملک تنظیمی سیکریٹری سجاد برکی، لندن میں مقیم بین الاقوامی میڈیا کوآرڈینیٹر زلفی بخاری، اور امریکہ و برطانیہ میں متحرک دیگر رہنما جیسے عاطف خان اور ملک عمران خلیل بھی حکام کی نظر میں ہیں۔

سجاد برکی اور عاطف خان پی ٹی آئی امریکہ چیپٹر سے جبکہ ملک عمران خلیل، نظر عباس، معاذ ملک اور ناصر میر پی ٹی آئی برطانیہ چیپٹر سے تعلق رکھتے ہیں۔پی ٹی آئی کے امریکہ اور برطانیہ چیپٹر نے اپریل 2022 سے اب تک 20 سے زائد احتجاجی مظاہرے کیے ہیں، جن کا مرکزی موضوع انتخابی عمل میں مبینہ دھاندلی، حکومت کی تبدیلی میں فوج کے مبینہ کردار، پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمات، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، یو ایس ایڈ کے فنڈز کا مبینہ غلط استعمال، آئی ایم ایف قرضوں کی مخالفت اور اعلیٰ عسکری قیادت کے خلاف عوامی بیانیہ رہا ہے۔

(انصارعباسی)

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: امریکا میں پی ٹی ا ئی انہوں نے کے خلاف

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران