نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار اہم ترین دورہ پر واشنگٹن ڈی سی پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
پاکستان کے ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ، سینیٹر محمد اسحاق ڈار آج رات واشنگٹن ڈی سی پہنچ گئے۔ ان کے استقبال کے لیے امریکا میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ اور سفارتخانے کے سینئر حکام موجود تھے۔
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق سینیٹر اسحاق ڈار اپنے دورۂ امریکا کے دوران آج بروز جمعہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات امریکی محکمہ خارجہ میں ہوگی، جس میں پاک امریکا تعلقات کے مختلف اہم پہلوؤں پر بات چیت کی جائے گی۔ ملاقات میں دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔
اپنے دورے کے دوران وزیر خارجہ اسحاق ڈار معروف امریکی تھنک ٹینک ‘دی اٹلانٹک کونسل’ میں بھی خطاب کریں گے، جہاں وہ علاقائی و عالمی امور پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے اور پاک امریکہ تعلقات کے مستقبل پر روشنی ڈالیں گے۔
یہ بھی پڑھیں اسحاق ڈار کا دورہ امریکا، اقوام متحدہ میں 3 اہم اجلاسوں کی صدارت کریں گے
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار دورہ امریکا اسحاق ڈار کریں گے
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔