دہلی میں زلزلے کے شدید جھٹکے، عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
جمعرات کی صبح دہلی اور نیشنل کیپیٹل ریجن (این سی آر) میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔
بھارتی نیشنل سینٹر فار سیزمولوجی (NCS) کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.4 ریکارڈ کی گئی، اور اس کا مرکز ریاست ہریانہ کے جھجر علاقے میں 10 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔
رپورٹ کے مطابق زلزلہ صبح 9 بج کر 4 منٹ پر آیا، جس کے نتیجے میں دہلی، نوئیڈا، غازی آباد اور گروگرام سمیت این سی آر کے مختلف علاقوں میں زمین ہلتی محسوس ہوئی۔
زلزلے کے جھٹکوں کے بعد لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور متعدد رہائشی اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔
سوشل میڈیا پر ایسی متعدد ویڈیوز سامنے آئیں جن میں پنکھے اور دیگر گھریلو اشیاء کو ہلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
???? #BREAKING: 4.
— NewsDaily???????????? (@XNews24_7) July 10, 2025
تاحال زلزلے کے نتیجے میں کسی جانی نقصان یا زخمی ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: زلزلے کے
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔