بجٹ برائے مالی سال 26-2025: معاملات آئی ایم ایف ہی طے کرے گا
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
وفاقی حکومت نئے مالی سال کا بجٹ آئی ایم ایف سے مشاورت کے بعد پیش کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کی تجویز زیرغور نہیں، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے مالی سال کا بجٹ تیار کرنے سے پہلے آئی ایم ایف کا ایک اور وفد جلد پاکستان کا دورہ کر ے گا۔
مذکورہ دورے کا مقصد آئی ایم ایف سے نئے مالی سال 26-2025 کے بجٹ پر مشاورت بتایا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نئے مالی سال کے بجٹ پر آمنے سامنے کے علاوہ آن لائن مشاورت بھی جاری رہے گی اور آئی ایم ایف سے مشاورت کے بعد بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائےگا۔ نئے مالی سال کا بجٹ جون کے پہلے ہفتے کے دوران پیش کیا جائےگا۔
پراپرٹی کی خریدوفروخت پر ریلیف کا معاملہپراپرٹی کی خریدوفروخت پر آئی ایم ایف ایک حد تک ریلیف دینے پر آمادہ ہوگیا ہے۔
جائیداد کی پہلی خرید و فرخت پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کردی جائےگی لیکن ود ہولڈنگ اور انکم ٹیکس کی موجودہ شرح برقرار رہےگی۔
مزید پڑھیے: کیا 26-2025 کے بجٹ میں تکنیکی امور آئی ایم ایف طے کرے گا؟
پراپرٹی فروخت کرنے والوں پر ٹیکس کی موجودہ شرح بھی برقرار رہےگی۔
آئی ایم ایف معاہدے کے تحت سفارشات کی منظوری ایگزیکٹو بورڈ مئی کے آخر یا جون میں دےگا تب تک بجٹ تیار ہو چکا ہوگا۔
مزید پڑھیں: سالانہ ریونیو ہدف پورا کریں گے، کوئی منی بجٹ نہیں آئےگا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
رپورٹس کے مطابق اگر پاکستان نے معاہدے پر عمل درآمد نہ کیا تو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے قرض نہیں ملےگا۔
آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس بجٹ تفصیلات طے کرنےکے بعد بلایا جائےگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئندہ بجٹ آئی ایم ایف آئی ایم ایف سے مشاورت وفاقی بجٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف ا ئی ایم ایف سے مشاورت وفاقی بجٹ ئی ایم ایف سے نئے مالی سال ا ئی ایم ایف آئی ایم ایف
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :