WE News:
2026-06-03@00:47:47 GMT

بجٹ برائے مالی سال 26-2025: معاملات آئی ایم ایف ہی طے کرے گا

اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT

بجٹ برائے مالی سال 26-2025: معاملات آئی ایم ایف ہی طے کرے گا

وفاقی حکومت نئے مالی سال کا بجٹ آئی ایم ایف سے مشاورت کے بعد پیش کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پینشن میں اضافے کی تجویز زیرغور نہیں، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے مالی سال کا بجٹ تیار کرنے سے پہلے آئی ایم ایف کا ایک اور وفد جلد پاکستان کا دورہ کر ے گا۔

مذکورہ دورے کا مقصد آئی ایم ایف سے نئے مالی سال 26-2025 کے بجٹ پر مشاورت بتایا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق نئے مالی سال کے بجٹ پر آمنے سامنے کے علاوہ آن لائن مشاورت بھی جاری رہے گی اور آئی ایم ایف سے مشاورت کے بعد بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائےگا۔ نئے مالی سال کا بجٹ جون کے پہلے ہفتے کے دوران پیش کیا جائےگا۔

پراپرٹی کی خریدوفروخت پر ریلیف کا معاملہ

پراپرٹی کی خریدوفروخت پر آئی ایم ایف ایک حد تک ریلیف دینے پر آمادہ ہوگیا ہے۔

جائیداد کی پہلی خرید و فرخت پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کردی جائےگی لیکن ود ہولڈنگ اور انکم ٹیکس کی موجودہ شرح برقرار  رہےگی۔

مزید پڑھیے: کیا 26-2025 کے بجٹ میں تکنیکی امور آئی ایم ایف طے کرے گا؟

پراپرٹی فروخت کرنے والوں پر ٹیکس کی موجودہ شرح بھی برقرار  رہےگی۔

آئی ایم ایف معاہدے کے تحت سفارشات کی منظوری ایگزیکٹو بورڈ مئی کے آخر  یا جون میں دےگا تب تک بجٹ تیار  ہو چکا ہوگا۔

مزید پڑھیں: سالانہ ریونیو ہدف پورا کریں گے، کوئی منی بجٹ نہیں آئےگا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

رپورٹس کے مطابق اگر پاکستان نے معاہدے پر عمل درآمد نہ کیا تو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے قرض نہیں ملےگا۔

آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس بجٹ تفصیلات طے کرنےکے بعد بلایا جائےگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئندہ بجٹ آئی ایم ایف آئی ایم ایف سے مشاورت وفاقی بجٹ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف ا ئی ایم ایف سے مشاورت وفاقی بجٹ ئی ایم ایف سے نئے مالی سال ا ئی ایم ایف آئی ایم ایف

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی