امریکہ، فلسطینی عوام کو بے گھر کرنا چاہتا ہے، سربراہ انصار الله
اشاعت کی تاریخ: 28th, March 2025 GMT
یوم القدس کے حوالے سے اپنے ایک خطاب میں سید عبدالمالک الحوثی کا کہنا تھا کہ دشمن مسئلہ فلسطین پر ایران کے کردار کی اہمیت سے آگاہ ہے۔ اسی وجہ سے تہران کو زیادہ سے زیادہ دباؤ کی امریکی پالیسی کا سامنا ہے۔ تاہم ایران دباؤ کے باوجود انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد سے اپنے راستے پر گامزن ہے۔ اسلام ٹائمز۔ یمنی انقلاب کے روحانی پیشواء اور مقاومتی تحریک "انصار الله" کے سربراہ "سید عبدالمالک بدر الدین الحوثی" نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کو ختم کرنے کے لیے امریکہ و صیہونی رژیم کی سیاسی اور میڈیا پر مشترکہ کوششیں سب پر واضح ہو چکی ہیں۔ ان کا مقصد نیل سے فرات تک صیہونی منصوبے کی تکمیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اب بھی فلسطینی عوام کو جبراً بے گھر کرنے کی بات کر رہا ہے۔ اس وقت امن و مصالحت کے نام پر جو کچھ کہا جا رہا ہے اس کا کوئی وجود نہیں۔ صہیونی رژیم مسجد اقصیٰ کو یہودیانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کی مزاحمت اور استقامت ناقابل بیان ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار یوم القدس کے حوالے سے اپنی تقریر میں کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ "طوفان الاقصیٰ" فلسطینی عوام کی جدوجہد میں ایک بڑا قدم ہے۔ فلسطینیوں کی اس استقامت کے نتیجے میں اسرائیل نے امریکی پَروں تلے پناہ لی۔ اس معاملے میں مغرب نے بھی شدید مداخلت کی۔ سید عبدالمالک الحوثی نے کہا کہ چونکہ یہ سوال اٹھنا شروع ہو گیا تھا کہ کیا صیہونی رژیم اپنی کمزور حالت کے باوجود قائم رہ سکے گی؟۔ اپنے وجود کی بقاء کے لئے امریکہ و اسرائیل نے فلسطینی عوام کے قتل عام اور نسل کشی کا راستہ اپنایا۔ دشمن انتہائی وحشت اور فوجی دباؤ کے ذریعے فلسطینی مجاہدین کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سید عبدالمالک الحوثی نے غزہ کی حمایت میں لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک "حزب اللہ" کی تعریف کی۔ اس بارے میں انہوں نے کہا کہ حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف جنگ میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ یمن نے بھی ہر سطح پر غزہ کے عوام کی حمایت جاری رکھی حتیٰ کہ ہم نے صیہونی بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو روک دیا۔ ہم نے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے فلسطین کی حمایت میں عراق کی مقاومت اسلامی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے اہم کردار کی جانب اشارہ کیا۔ اس ضمن میں انہوں نے کہا کہ دشمن اس معاملے میں ایران کے کردار کی اہمیت سے آگاہ ہے۔ اسی وجہ سے تہران کو زیادہ سے زیادہ دباؤ کی امریکی پالیسی کا سامنا ہے۔ تاہم ایران دباؤ کے باوجود انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد سے اپنے راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام خمینی ره نے رمضان المبارک کے آخری جمعے کو یوم القدس کا نام دیا تاکہ یہ دن قوموں کی بیداری کا سبب بنے۔ انصار اللہ کے سربراہ نے صیہونی رژیم کے جرائم کے سامنے عرب اور اسلامی ممالک کی کمزوری پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے بھی غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں صیہونی رژیم کی نسل کشی کے خلاف کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا۔ اقوام متحدہ کو چاہئے کہ وہ صیہونی رژیم کی رکنیت معطل کر کے اُسے اس بین الاقوامی پلیٹ فارم سے باہر نکال دے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ سید عبدالمالک فلسطینی عوام صیہونی رژیم
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔