علی امین گورنر خیبر پختونخوا کے ساتھ بیٹھ کر اے پی سی بلائیں، رانا ثناء اللّٰہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
رانا ثناء اللّٰہ—فائل فوٹو
وزیرٍ اعظم شہباز شریف کے مشیر رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کے ساتھ بیٹھ کر اے پی سی بلائیں۔
ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ہم نے بھی اے پی سی بلانے کی کوشش کی تو پی ٹی آئی نے حوصلہ افزا جواب نہیں دیا، اکیلے بیٹھ کر حل تلاش کیا جائے گا تو حل نہیں نکلے گا۔
یہ بھی پڑھیے رانا ثناء نے عمران خان کیلئے کسی ریلیف یا ڈیل کے امکان کو مسترد کر دیارانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ ن لیگ سمیت جن جماعتوں نے گنڈاپور کی اے پی سی میں شرکت نہیں کی، اس کی وجوہات ہوں گی، آل پارٹیز کانفرنس بلانا اچھا اقدام ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اے پی سی بلانے سے پہلے اپنا ہوم ورک پورا کرنا چاہیے تھا، وزیرِ اعظم نے پی ٹی آئی کو کہا کہ آئیں بیٹھیں اور بات کریں، علی امین گنڈاپور نے اے پی سی بلائی ہے تو یہ اچھا اقدام ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رانا ثناء الل اے پی سی
پڑھیں:
فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
فرانس میں قائم ایک نفسیاتی اسپتال نے ذہنی صحت کے علاج کے لیے ایک غیرمعمولی طریقہ اختیار کیا ہے، جہاں مریضوں کے ڈپریشن، اضطراب اور ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے گدھوں کی مدد لی جا رہی ہے۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ منصوبہ فرانس میں اپنی نوعیت کا واحد تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ دارالحکومت پیرس کے مضافات میں سرسبز و شاداب ماحول اور تاریخی عمارتوں سے گھرا ویل ایورارڈ اسپتال مریضوں کو روایتی طبی علاج کے ساتھ ایک منفرد اور پُرسکون تجربہ بھی فراہم کر رہا ہے۔
اس پروگرام کے تحت مریض گدھوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، انہیں سیر کرواتے ہیں، ان کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور جذباتی تعلق قائم کرتے ہیں۔ حالیہ سیشن کے دوران بھی متعدد مریضوں نے گدھوں کے ساتھ خوشگوار وقت گزارا اور رخصت ہوتے ہوئے انہیں گلے لگا کر محبت کا اظہار کیا۔
60 سالہ مریضہ نیتھلی کے مطابق گدھوں کے ساتھ وقت گزارنے سے انہیں ویسا ہی سکون ملتا ہے جیسا کسی پُرسکون دوا کے استعمال سے حاصل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کے ذریعے ہونے والا یہ علاج ذہنی آسودگی فراہم کرتا ہے اور وقتی طور پر تمام پریشانیاں ختم دیتا ہے۔
فرانس کے سرکاری نظامِ صحت کے تحت یہ سیشنز مریضوں کو بغیر کسی معاوضے کے فراہم کیے جاتے ہیں۔ عموماً ہر مریض کو ایک مخصوص گدھے کے ساتھ منسلک کیا جاتا ہے تاکہ وقت کے ساتھ دونوں ایک دوسرے کی عادات اور مزاج سے واقف ہو سکیں۔
اس یونٹ میں خدمات انجام دینے والی نرس آڈرے سیفار کے مطابق نیتھلی کی حالت میں چند ملاقاتوں کے بعد ہی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں وہ جسمانی معذوری کے باعث وہیل چیئر سے نکلنے پر آمادہ نہیں تھیں، لیکن گدھے کے ساتھ تعلق نے ان میں اعتماد پیدا کیا اور اب وہ نہ صرف چیئر سے اٹھتی ہیں بلکہ اپنے جانور کے ساتھ کھڑی بھی ہوتی ہیں۔
دوسری جانب 52 سالہ مریض جیروم کا کہنا ہے کہ اس منفرد پروگرام نے ان کے احساسِ تنہائی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔