کراچی:

ایف بی آر افسر کی کالے شیشے اور بغیر نمبر پلیٹ لگی گاڑی چلانے اور میڈیا سے بدتمیزی کرنے کی ویڈیو وائرل ہوگئی، سینیٹر فیصل واوڈا نے ویڈیو ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے افسر کو فوری طور پر برطرف کرنے کا مطالبہ کردیا۔

سماجی ویب سائٹ ایکس (ٹویٹر) پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کراچی میں ٹریفک پولیس اہلکاروں نے کالے شیشے والی ایک گاڑی کو روکا جس پر نمبر پلیٹ بھی نہیں تھی بعدازاں گاڑی سے ایف بی آر کا ایک افسر نکل آیا جس نے غیرقانونی اقدامات کے باوجود بازپرس پر میڈیا کو دیکھ کر ان سے بدتمیزی کی، کیمرا چھیننے کی کوشش کی، بدتمیزی کی جو میڈیا ورکرز نے ریکارڈ کرلی۔

ویڈیو سامنے آنے پر سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ میں حیران ہوں کہ ابھی تک وزیراعظم پاکستان اور خصوصی طور پر وزیر خزانہ اور چئیرمین ایف بی آر جن سے میرا ملک کی بہتری کیلئے بہت اچھا تعلق ہے انہوں نے اس ایف بی آر کے افسر کو نوکری سے نکالا کیوں نہیں۔

انہوں نے کہا کہ واضح کردوں کہ اس افسر کو صرف معطل نہیں بلکہ نوکری سے برخاست کرنا ہوگا جو عوام کا نوکر ہوتے ہوئے عوام سے جانوروں کی طرح سلوک کررہا ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

فیصل واوڈا نے کہا کہ میں ملک سے باہر ہوں، وطن واپسی تک اگر اس افسر کو نوکری سے برخاست کرنے کی کارروائی شروع نہیں کی گئی تو سینیٹ کی فنانس کمیٹی میں جس کا میں خود ممبر ہوں، میں اسے سینیٹ میں بلا کر جو کروں گا پھر کوئی گلہ نہ کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: فیصل واوڈا افسر کو ایف بی

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل