ایرانی و قطری وزرائے خارجہ کی غزہ کے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے فوری کارروائی پر تاکید
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
اپنی ٹیلیفونک گفتگو میں غزہ و مغربی کنارے کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے ایران اور قطر کے وزرائے خارجہ نے غزہ کے بے دفاع عوام کو امداد فراہم کرنے، غزہ کی پٹی کے غیر انسانی محاصرے کے خاتمے اور وہاں جاری نسل کشی کو روکنے کیلئے عالمی برادری اور اسلامی و عرب ممالک کیجانب سے فوری و موثر اقدام کی ضرورت پر زور دیا ہے اسلام ٹائمز۔ غزہ میں مظلوم فلسطینی عوام کی تباہ کن صورتحال کے بارے اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ مشاورت کے سلسلے میں ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے آج شام قطری وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کی ہے۔ ایرانی خبررساں ایجنسی فارس نیوز کے مطابق اس ٹیلیفونک گفتگو میں فریقین نے غزہ و مغربی کنارے کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے غزہ کے بے دفاع عوام کو انسانی امداد، خوراک و ادویات کی فراہمی، غزہ کی پٹی کے غیر انسانی محاصرے کے خاتمے اور وہاں جاری نسل کشی کو روکنے کے لئے عالمی برادری اور اسلامی و عرب ممالک کی جانب سے فوری و موثر اقدام کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر، اسلامی تعاون تنظیم کے ہنگامی اجلاس کے انعقاد کے ذریعے اسلامی و عرب ممالک کے اجتماعی اقدام کی اہمیت کی یاددہانی کرواتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ نے تاکید کی کہ عالمی برادری کو چاہیئے کہ وہ غاصب صیہونی رژیم کو حاصل جرائم کی سزاء سے استثنی کا خاتمہ کرے اور بھیانک جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب پر قابض صیہونی مجرموں کو فی الفور سخت سے سخت سزا دلوائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
تہران: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان پر شدید ردعمل دیا ہے جس میں انہوں نے بحری جہازوں کو ہونے والے ممکنہ نقصانات کا ازالہ ایرانی اثاثوں سے کرنے کی بات کی تھی۔ ایران نے اس مؤقف کو بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک خطرناک اور اشتعال انگیز نظیر قرار دیا ہے۔
عباس عراقچی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کسی ملک کے اثاثوں کو مستقبل کے غیر متعلقہ دعووں کی بنیاد پر ضبط کرنا ایک ایسا اقدام ہے جو عالمی مالیاتی نظام اور بین الاقوامی قوانین کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے ملک کے اثاثے مستقبل کے غیر متعلقہ نقصانات کی ادائیگی کے لیے ضبط کرنا ایک اشتعال انگیز نظیر ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو ممالک یا ادارے اس طرح کے ضبط شدہ اثاثوں سے فائدہ اٹھانے یا اس اقدام کی حمایت کرنے کی کوشش کریں گے، انہیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اگر حکومتیں اس طرز عمل کو معمول بنا لیں تو پھر دنیا میں کسی بھی ملک کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے۔
عباس عراقچی کے مطابق اس طرح کے اقدامات عالمی مالیاتی نظام میں بے یقینی، افراتفری اور قانونی تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں، جن کے نتائج نہ صرف غیر خوشگوار بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری جہاز رانی، اقتصادی پابندیوں اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان سخت بیانات کا تبادلہ جاری ہے۔
Seizing another nation's assets to pay for unrelated future claims is an incendiary precedent.
Those who celebrate or profit from such funds should remember: once governments normalize confiscation, no one's assets are safe. Ensuing chaos will not be pretty or peaceful.
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اثاثوں کی ضبطی جیسے اقدامات عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس سے عالمی سرمایہ کاری، بین الاقوامی تجارت اور ممالک کے درمیان مالیاتی اعتماد پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔