تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان شدید سرحدی جھڑپیں، متعدد ہلاکتیں، تھائی سرحدی اضلاع میں مارشل لا
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
جنوب مشرقی ایشیائی ممالک تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان گزشتہ ایک دہائی کی شدید ترین سرحدی جھڑپیں جاری ہیں جن میں بھاری ہتھیاروں کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ اب تک کم از کم 16 افراد ہلاک اور ایک لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تھائی لینڈ-کمبوڈیا سرحدی جھڑپیں: 10 سے زائد افراد ہلاک
سرحدی کشیدگی کا آغاز مئی 2025 میں ایک کمبوڈین فوجی کی ہلاکت سے ہوا تھا جس کے بعد سفارتی تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا۔ جمعرات کے روز دونوں ممالک کے درمیان متنازع سرحدی علاقے میں جھڑپیں شروع ہوئیں جو اب تک جاری ہیں۔
جھڑپوں کا مرکز قدیم ہندو مندر پریاہ ویہیر (Preah Vihear) کے اطراف کا علاقہ ہے جہاں دونوں ممالک تاریخی دعوے رکھتے ہیں۔ تھائی لینڈ نے کمبوڈین سفیر کو ملک بدر کر دیا جبکہ کمبوڈیا نے اس پر بارودی سرنگیں بچھانے کا الزام مسترد کیا ہے۔
کمبوڈیا نے ٹرک پر نصب راکٹ لانچرز تعینات کیے ہیں جن کے ذریعے مبینہ طور پر تھائی شہری علاقوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب تھائی فوج نے امریکی ساختہ ایف-16 جنگی طیارے استعمال کرتے ہوئے سرحد پار کمبوڈین فوجی اہداف پر حملے کیے۔
تقریباً 130,000 سے زائد افراد تھائی لینڈ کے سرحدی علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیے جا چکے ہیں جبکہ کمبوڈیا میں 12،000 خاندانوں کو محاذ سے دور لے جایا گیا ہے۔
تنازعے کی بنیاد؟تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان 817 کلومیٹر طویل سرحد پر کئی مقامات پر ملکیت کے دعوے متنازع ہیں جن کی بنیاد سنہ 1907 کے فرانسیسی نقشے پر ہے۔ اگرچہ عالمی عدالت انصاف نے سنہ 1962 اور سنہ 2013 میں کمبوڈیا کے حق میں فیصلے دیے لیکن تھائی لینڈ نے ان فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔
مزید پڑھیے: تھائی وزیر اعظم کی لیک ہونے والی کال کس طرح سیاسی بحران کا سبب بنی؟
سنہ 2008 میں پریاہ ویہیر مندر کو یونیسکو عالمی ورثہ قرار دیے جانے کی کوشش کے بعد دونوں ممالک کے درمیان شدید جھڑپیں ہو چکی ہیں جن میں درجنوں جانیں جا چکی ہیں۔
حالیہ کشیدگی کی وجہحالیہ کشیدگی کی ایک بڑی وجہ قومی خودمختاری کے حساس معاملات اور سیاسی قیادت کے درمیان تعلقات کا بگاڑ ہے۔ ایک لیک آڈیو کال میں تھائی وزیراعظم پائیتونگتارن شیناواترا کی کمبوڈین رہنما ہن سین سے بات چیت پر تنقید کے بعد ان کی عدالتی معطلی نے سیاسی بحران کو جنم دیا۔
کیا کوئی حل نکل سکتا ہے؟دونوں ممالک نے جون 14 کو سرحدی تنازعات کے حل کے لیے کمیشن اجلاس میں شرکت پر آمادگی ظاہر کی تھی لیکن کوئی پیشرفت نہ ہو سکی۔ کمبوڈیا نے اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کرتے ہوئے تھائی لینڈ کے خلاف غیر اعلانیہ اور منظم فوجی جارحیت کا الزام لگایا ہے۔
ادھر تھائی لینڈ کا مؤقف ہے کہ مذاکرات صرف اس وقت ممکن ہوں گے جب کمبوڈیا تشدد بند کرے۔
تھائی لینڈ کے 8 سرحدی اضلاع میں مارشل لاتھائی لینڈ نے کمبوڈیا کے ساتھ بڑھتی ہوئی سرحدی جھڑپوں کے بعد 8 سرحدی اضلاع میں مارشل لا نافذ کر دیا ہے۔
تھائی فوج کے بارڈر ڈیفنس کمانڈ کے کمانڈر اپیچارٹ ساپراسیٹ نے اعلان کیا کہ صوبہ چنتھابوری کے سات اضلاع اور صوبہ تراٹ کے ایک ضلع میں مارشل لا نافذ کیا گیا ہے تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔
مزید پڑھیں: دنیا کے ایک چوتھائی ممالک میں خواتین کی صورتحال میں تنزلی ہوئی، اقوام متحدہ
قائم مقام وزیراعظم پھمتھم وچھایا چھائی نے کمبوڈیا کے ساتھ سرحدی تنازعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جھڑپیں کسی بھی وقت جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
تھائی کمبوڈیا تنازع تھائی کمبوڈیا جھڑپیں تھائی لینڈ تھائی لینڈ مارشل لا کمبوڈیا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: تھائی کمبوڈیا تنازع تھائی کمبوڈیا جھڑپیں تھائی لینڈ تھائی لینڈ مارشل لا کمبوڈیا میں مارشل لا دونوں ممالک تھائی لینڈ کمبوڈیا کے کے درمیان ہیں جن کے بعد
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔