WE News:
2026-06-03@01:08:01 GMT

بی این پی کا لانگ مارچ قلات پہنچ گیا

اشاعت کی تاریخ: 28th, March 2025 GMT

بی این پی کا لانگ مارچ قلات پہنچ گیا

بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی مینگل) کا لانگ مارچ قلات پہنچ گیا ہے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کا لانگ مارچ بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کی قیادت میں قلات پہنچ گیا ہے، لانگ مارچ میں خواتین و حضرات ہزاروں کی تعداد میں شریک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کے خلاف اختر مینگل کا لانگ مارچ کا اعلان، اے این پی کی حمایت

میڈیا رپورٹس کے مطابق بی این پی کی جانب سے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں ڈاکٹر مارنگ بلوچ اور دیگر اسیر ان کی رہائی کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

قلات میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ ہمیں مجبور کیا گیا کہ ہم رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں گھروں سے نکلے ہیں، بلوچستان میں عوام کی ننگ و ناموس محفوظ نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’الوداع، شاید قانون کی حکمرانی کے بعد ملیں‘، کیا اختر مینگل ملک چھوڑ گئے؟

اختر مینگل نے کہا کہ یہاں خواتین کی عزت و نامو س محفوظ نہیں ہے، وہ قوتیں جو بلوچستان کے وسائل لوٹتی تھیں، وہی قوتیں آج ہماری خواتین کے سروں سے دوپٹے کھینچ رہی ہیں۔

بی این پی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل کا قافلہ قلات میں مختصر قیام کے بعد کوئٹہ کے لیے روانہ ہوگیا ہے، لانگ مارچ میں دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنان و عہدیداران بھی شریک ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اختر مینگل بلوچستان نینشل پارٹی بی این پی ڈاکٹر مارنگ بلوچ قلات کوئٹہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اختر مینگل بلوچستان نینشل پارٹی بی این پی ڈاکٹر مارنگ بلوچ قلات کوئٹہ کا لانگ مارچ اختر مینگل بی این پی

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی
  • نمائندہ یورپی یونین کایا کالاس وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچ گئیں
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے