پہلے بھی گندے انڈے پارٹی کو نہ توڑ سکے تو آگے کیا توڑیں گے، شیخ وقاص اکرم WhatsAppFacebookTwitter 0 29 March, 2025 سب نیوز

پشاور (سب نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری انفارمیشن شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا اور اب ہمیں سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں ہے۔

پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے بہت سے ساتھی دو سالوں سے جیلوں میں ہیں، ہمارا مینڈیٹ چوری کیا گیا اور اب ہمیں سیاسی ایکٹیویٹی کی اجازت نہیں، ہمارے ساتھیوں کے کاروبار بند کئے گئے۔ان کا کہنا تھا کہ خان کی گرفتاری پر عوام نے احتجاج کیا گیا، سابق چیف جسٹس اف پاکستان نے ہم نے نشان چھین لیا، کے پی سینٹ کے انتخابات پر ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی۔شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ ابھی تک الیکشن نہیں ہو رہے، اس پر قوم آپ کو کبھی بھی معاف نہیں کرے گی۔رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ عدالتی احکامات پر اڈیالہ جیل عمل درآمد نہیں کررہے، عمران خان کے مقدمات عدالتوں میں نہیں لگ رہے، اس صوبے کے علاوہ باقی پاکستان ہمارے لیے کنٹینرستان بن گیا ہے، ہم اٹک پل کے اس پار نہیں جا سکتے۔انہوں نے کہا کہ پیکا آرڈیننس کے بعد نہ صرف ہمارے لیے بلکہ میڈیا کے لئے بھی مسائل کا سامنا ہے، ہمارے لوگوں کو اٹھایا جا رہا ہے، طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے، ابھی تک ہمارے سوشل میڈیا کے گرفتار کارکنوں کو عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا،ملک میں طاقت کا ننگا ناچ جاری ہے، گرفتار کارکنان کو پیش کیا جائے، ایسے اقدامات سے نفرتیں بڑھیں گی۔

شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ پھر کہتے ہیں کیوں نفرت کیا جا رہا، عدالتی فیصلوں کے باوجود عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی لگا دی گئی، عید کے بعد توہین عدالت کی درخواست دائر کررہے ہیں، اگر عدالت اپنی فیصلے منوا نہیں رہے اور اس کی بے توقیری کی جارہی ہے تو پھر یہ سلسلہ بند ہو چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ قوم سوال کررہی کہ اگر وہ ایک معمولی افسر سے عڈالتی فیصلے پر عمل درآمد نہیں کر سکتی تو پھر اس کو بند کیا جانا چاہیئے، عمران خان سے بند ملاقاتوں پر پابندی ختم کرنا چاہیے ۔ایسے افسران کو عبرت کا نشان بنانا چاہیے، امید ہے اب عمران کی بچوں سے بات کروا دی جائے گی اور کتابیں بھی فراہم کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ایک شخص سے اتنا خوف کبھی نہیں دیکھا، نومبر کے بعد 5 ہزار کارکنان ہمارے گرفتار ہوئے ہیں، اگر ساتھ دینے والوں نے حکومت سے ہاتھ اٹھا لئے تو کل انہیں بھی مشکلات ہونگی، اور ہاتھ ہٹتے زیادہ دیر نہیں لگتی، پتہ بھی نہیں چلتا ہاتھ کب آٹھ گیا؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ کیا گیا کیا جا

پڑھیں:

آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟

آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات 27 جولائی کو ہوں گے۔ ان انتخابات میں آزاد کشمیر کے 33 علاقائی حلقوں کے علاوہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں پر بھی ووٹنگ ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ کی مہم جاری، نواز شریف کے دورہ میرپور کا اعلان

لاہور ڈویژن میں مہاجرین کے لیے قائم 2 انتخابی حلقوں میں پولنگ ہوگی جہاں ہزاروں رجسٹرڈ ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔

لاہور ڈویژن میں حلقہ ایل اے 34 جموں 1 اور حلقہ ایل اے 41 وادی کشمیر 2 کے لیے پولنگ ہوگی۔ ان حلقوں میں ضلع لاہور، شیخوپورہ، قصور اور ننکانہ صاحب میں مقیم اہل کشمیری مہاجرین ووٹ ڈالنے کے مجاز ہیں۔

حلقہ ایل اے 34 جموں ون جموں سے تعلق رکھنے والے کشمیری مہاجرین کے لیے مخصوص ہے جبکہ ایل اے 41 وادی کشمیر ٹو وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کے لیے مختص ہے۔

کتنے ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے؟

پاکستان بھر میں قائم مہاجرین کی 12 نشستوں پر مجموعی طور پر 4 لاکھ 38 ہزار 596 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں۔

وادی کشمیر کے حلقوں میں ووٹرز کی تعداد نسبتاً کم ہے جبکہ جموں کے حلقوں میں ووٹرز زیادہ ہیں۔ گزشتہ انتخابات کے مطابق وادی کشمیر کے متعلقہ حلقے میں تقریباً 5 ہزار ووٹرز رجسٹرڈ تھے اور نئی ووٹر فہرستوں کے بعد بھی اس تعداد میں نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔

مزید پڑھیے: آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی نے 35 حلقوں میں امیدواروں کو ٹکٹ جاری کردیے

الیکشن کمیشن نے لاہور ڈویژن کے دونوں حلقوں کے لیے مختلف مقامات پر پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں تاکہ ووٹرز آسانی سے اپنا ووٹ کاسٹ کر سکیں۔

رپورٹ کے مطابق ایل اے 34 کا دائرہ زیادہ تر لاہور کے اندرون علاقوں پر مشتمل ہے جبکہ ایل اے 41 میں گلبرگ سمیت لاہور کے بعض اندرون شہر کے علاقے شامل ہیں۔

کن امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا؟

حلقہ ایل اے 41 وادی کشمیر 2 میں مسلم لیگ (ن) کے محمد امیر شاہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے غلام عباس میر اور استحکام پاکستان پارٹی کے سعید احمد ڈار اہم امیدوار ہیں۔

دوسری جانب ایل اے 34 جموں ون میں مسلم لیگ (ن) کے ناصر احمد ڈار، پاکستان پیپلز پارٹی کے کرنل (ر) قدیر چوہان اور استحکام پاکستان پارٹی کے بلال بٹ مدمقابل ہیں۔

مزید پڑھیں : عام انتخابات: آزاد کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت تیز، نواز شریف اور بلاول بھٹو بھی میدان سجانے کو تیار

ان حلقوں میں متعدد آزاد امیدوار بھی انتخابی میدان میں موجود ہیں۔

کس جماعت کے درمیان اصل مقابلہ؟

سیاسی مبصرین کے مطابق آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات میں اصل مقابلہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان دکھائی دے رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے، حالانکہ 2021 کے انتخابات کے بعد آزاد کشمیر میں حکومت تحریک انصاف ہی کی قائم ہوئی تھی۔

انتخابی مہم عروج پر

آزاد کشمیر کے انتخابات کے لیے انتخابی مہم اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت بلاول بھٹو زرداری کر رہے ہیں، جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، سینیئر وزیر مریم اورنگزیب اور خواجہ سعد رفیق مختلف جلسوں اور انتخابی سرگرمیوں میں شریک ہوں گے۔

ادھر استحکام پاکستان پارٹی کے امیدوار بھی ڈور ٹو ڈور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: آزاد کشمیر: پی ٹی آئی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیوں کیا، 27 جولائی کو اس کا فائدہ کس پارٹی کو ہوگا؟

اب تمام نظریں 27 جولائی پر مرکوز ہیں جب ووٹرز اپنے فیصلے سے یہ طے کریں گے کہ ان حلقوں میں کامیابی کس جماعت کے حصے میں آتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آزاد کشمیر انتخابات کشمیری مہاجرین کی 12نشستیں لاہور ڈویژن

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا کل مینار پاکستان جلسہ لٹک گیا، انتظامیہ نے اجازت نہیں دی
  • نواز شریف پہلے یہ بتائیں ووٹ کو عزت کب دینی ہے؟ شرجیل میمن کا ردعمل
  • پیپلز پارٹی کی قیادت پر انگلی اٹھانے سے پہلے رانا ثنا اللہ کو ماڈل ٹاؤن کے خون کا حساب دینا چاہیئے، سعدیہ جاوید
  • آزاد کشمیر انتخابات: لاہور ڈویژن کے کن 2 حلقوں میں پولنگ ہوگی؟
  • کراچی: کیماڑی سے اغواء 7 سالہ بچی کیساتھ قتل سے پہلے زیادتی کی تصدیق
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا