پنجاب: عید الفطر کے دوران عارضی مکینیکل جھولوں پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 30th, March 2025 GMT
محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان کے مطابق عارضی نصب ہونے والے مکینکل جھولوں پر پابندی کا فیصلہ انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: دوران عید کم عمر ڈرائیورز کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
پابندی کا اطلاق پنجاب بھر میں ہوگا اور محکمہ داخلہ پنجاب نے مکمل عملدرآمد کے لیے تمام ڈپٹی کمشنرز کے نام مراسلہ جاری کر دیا ہے۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے بتایا کہ عید کے دوران تفریحی پارکوں میں بچوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد کی آمد متوقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہری کھیل کے میدانوں، گیمنگ زونز اور مکینیکل جھولوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے ان مقامات کا رخ کریں گے۔
یاد رہے کہ اس دوران تفریحی پارکس، تھیم پارکس، پلے ایریاز میں مستقل بنیادوں پر لگائے گئے مکینکل جھولوں کی مشروط اجازت ہو گی۔
مزید پڑھیے: پنجاب: زیادہ کرایوں کی وصولی پر کارروائی، مسافروں کو رقم واپس
مستقل بنیادوں پر لگائے گئے جھولوں کے لیے فٹنس سرٹیفکیٹ کا حصول لازمی قرار دیا گیا ہے۔
مستقل نصب جھولوں کے حفاظتی معائنے اور تمام ریگولیٹری معیارات پر عملدرآمد بارے متعلقہ ڈپٹی کمشنر سے تصدیقی سرٹیفیکیٹ لازم قرار دیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب میں عید الفطر کے لیے مرکزی کنٹرول روم بھی قائم کر دیا گیا ہے۔ کنٹرول روم 24 گھنٹے پنجاب بھر سے رپورٹس مرتب کرے گا اور امن و امان کے قیام اور حکومتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب نے بتایا کہ سینیئر افسران کی قیادت میں عید کی چھٹیوں میں کام جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب پنجاب جھولوں پر پابندی پنجاب جھولے عیدالفطر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب جھولے عیدالفطر محکمہ داخلہ پنجاب کے لیے گیا ہے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔