ملک سہیل طلعت نے وزیراعظم شہباز شریف کے بجلی پیکج کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ نہایت ہی مثبت پیش رفت ہے۔
اشاعت کی تاریخ: 3rd, April 2025 GMT
ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 اپریل2025ء) ملک سہیل طلعت نے وزیراعظم شہباز شریف کے بجلی پیکج کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ نہایت ہی مثبت پیش رفت ہے۔اس اقدام سے زراعت، صنعت و عوام کو کافی حد تک ریلیف ملے گا۔ پچھلے دو یوم سے مایوسی پھیلانے والے عناصر جو ملک کو معاشی عدم استحکام سے دوچار دیکھنا چاہتے ہیں والوں کو آج مایوسی سے دوچار ہونا پڑا۔
(جاری ہے)
گو کہ معیشت بحالی کے لیے ہم نے خطے کی مناسبت کے لحاظ سے ٹیرف کمی کا مطالبہ کیا تھا تاہم ہم سمجھتے ہیں موجودہ فیصلہ مناسب پیش رفت ہے۔پی بی ایف سٹیٹ بینک پالیسی ریٹ میں آئندہ سہ ماہی میں مارک اپ میں بارہ فیصد سے کم کرکے آٹھ فیصد کی توقع رکھتی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف زراعت اور بلخصوض بحالی کپاس پر اپنی خصوصی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں کو جاری رکھیں گے۔
انہوں نے کہا معیشت سست ہی سہی مگر درست سمت گامزن ہے۔ پی بی ایف مکمل معیشت بحالی تک تمام شعبوں کی اصلاحات کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔