بالی ووڈ کے لیجنڈ اداکار دھرمیندر نے آنکھ کی سرجری کروانے کے بعد اپنے مداحوں کو ایک طاقتور پیغام دیا ہے۔ 89 سال کی عمر میں بھی ’’ہی مین‘‘ اپنی جوان دلی اور حوصلے سے سب کو حیران کرگئے۔

اسپتال سے باہر نکلتے ہوئے دھرمیندر نے آنکھ پر پٹی باندھے ہوئے شوبز صحافیوں سے بات کی۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’بہت جان ہے مجھ میں ابھی! میں اپنی آنکھ کا علاج کروا کر آیا ہوں۔ محبت ہے آپ سب سے، محبت ہے میرے مداحوں سے، میں مضبوط ہوں۔‘‘ انہوں نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر اپنی توانائی کا مظاہرہ کیا۔

دھرمیندر کو حال ہی میں فلم ’راکی اور رانی کی پریم کہانی‘ میں کنول رندھاوا کے کردار میں دیکھا گیا تھا۔ اب وہ سری رام رگھوان کی ہدایت کاری میں بننے والی فلم ’اکیس‘ میں ایم ایل کھیتاڑ پال کا کردار ادا کریں گے، جہاں ان کے ساتھ اگاستیا نندا مرکزی کردار میں نظر آئیں گے۔

اپنے طویل کیریئر پر بات کرتے ہوئے دھرمیندر نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں اپنی عمر پر یقین نہیں آتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت بہت تیزی سے گزر گیا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دنوں کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں پہلی فلم ’دل بھی تیرا ہم بھی تیرے‘ میں کام کرنے کا موقع ملا تو انہیں یہ تک نہیں معلوم تھا کہ کیمرے کے سامنے کہاں دیکھنا ہے۔

دھرمیندر کی صحت یابی کی خبروں پر ان کے مداحوں نے سوشل میڈیا پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ کئی نوجوان اداکاروں نے بھی ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

’شعلے‘، ’چپکے چپکے‘ اور ’ان پڑھ‘ جیسی یادگار فلموں میں کام کرنے والے دھرمیندر کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی نئے کرداروں کےلیے تیار ہیں۔

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

پڑھیں:

وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور مکانات کی مسماری پر میرواعظ عمر فاروق کا شدید رنج

مولوی محمد عمر فاروق نے کہا کہ ہر انسانی جان کا ضیاع غلط اور ناقابلِ قبول ہے لیکن کسی ایک شخص کے پُرتشدد عمل کو سب کیلئے اجتماعی سزا کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ میرواعظِ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق نے تاریخی جامع مسجد سرینگر میں نمازِ جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ چند دنوں کے دوران پورے کشمیر میں نوجوانوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، پوچھ گچھ اور ہراسانی پر شدید تشویش اور رنج و اضطراب کا اظہار کیا۔ دو ہزار سے زائد نوجوانوں کو مبینہ طور پر "اوور گراؤنڈ ورکرز" یا او جی ڈبیلو ہونے کے الزام میں اٹھایا گیا ہے۔ مشتبہ عسکریت پسندوں کے ہاتھوں ایک پولیس اہلکار کے قتل کے بعد اٹھائے گئے ان اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے عسکریت پسندی کے خاتمے کے دعوؤں کے باوجود اس طرح کا واقعہ پیش آنا باعثِ تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر انسانی جان کا ضیاع غلط اور ناقابلِ قبول ہے، لیکن کسی ایک شخص کے پُرتشدد عمل کو سب کے لئے اجتماعی سزا کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔ اس قتل کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور جو لوگ اس کے ذمہ دار ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیئے، لیکن بے گناہ نوجوانوں اور ان کے اہلِ خانہ کو قربانی کا بکرا بنا کر تکلیف میں مبتلا نہیں کیا جانا چاہیئے۔

مشتبہ عسکریت پسندوں کے مکانات منہدم کرکے ان کے اہلِ خانہ کو بے گھر کرنے کی اطلاعات بھی ایک اور ماورائے عدالت اور غیر منصفانہ اقدام ہے، ایسے اقدامات ناراضی اور غصے کو مزید گہرا کرتے ہیں اور بالآخر الٹا نتیجہ دیتے ہیں۔ کشمیری انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز اور صحافی عرفان معراج کی برسوں کی قید کے بعد ضمانت پر رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے میرواعظ نے امید ظاہر کی کہ ان کی کشمیر واپسی پر عائد پابندیوں پر بھی نظرثانی کی جائے گی تاکہ وہ جلد سرینگر میں اپنے گھروں کو واپس آکر اپنے اہلِ خانہ سے مل سکیں۔ انہوں نے دیگر کشمیری قیدیوں کے لئے بھی راحت کی امید ظاہر کی، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں ضمانت مل چکی ہے لیکن دوسرے مقدمات میں ملوث کئے جانے کے بعد وہ بدستور قید ہیں، اور وہ بھی جن کی ضمانت کی درخواستیں ابھی زیرِ سماعت ہیں۔

نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ اپنے حقیقی مسائل اور تحفظات کے لئے آواز اٹھانے والے نوجوانوں کو سنا جانا چاہیئے اور ان کے ساتھ بات چیت ہونی چاہیئے، نہ کہ انہیں پولیس کارروائی اور طاقت کا سامنا کرنا پڑے۔ میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ نہتے مظاہرین کو پیلٹ لگنے کی اطلاعات ان تباہ کن اثرات کی دردناک یاد دہانی ہیں جو گزشتہ دہائیوں میں سینکڑوں کشمیری پیلٹ گنوں کے باعث جھیل چکے ہیں، جن سے ان کی آنکھیں اور زندگیاں ہمیشہ کے لیے متاثر ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا افسوسناک ہے کہ اب دہلی کے طلبہ کو بھی اس کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کا استعمال کسی شکایت یا مسئلے کو حل نہیں کر سکتا، خواہ وہ دہلی میں ہو یا کشمیر میں، مسائل کے حل کا واحد راستہ بات چیت، جوابدہی اور باہمی رابطہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وادی کشمیر میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں اور مکانات کی مسماری پر میرواعظ عمر فاروق کا شدید رنج
  • ٹانک: پولیس چیک پوسٹ پر خوارج کا بزدلانہ حملہ، 15 بہادر جوان شہید، جوابی کارروائی میں 12 دہشتگرد ہلاک
  • موضوع: کربلا میں خواتین کا کردار اور ھم
  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی