معروف کارسازکمپنی کی جدید گاڑی پاکستان میں لانچ کرنے کی تیاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, April 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)ہنڈائی ٹوسان ہائبرڈ باضابطہ طور پر پاکستان میں متعارف کروائی جا رہی ہے جو ملک میں ہائبرڈ گاڑیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک بڑی پیش رفت ہے۔
تفصیلات کے مطابق سال 2025 کے آغاز سے ہی پاکستان کی آٹو مارکیٹ میں خاصی سرگرمی دیکھنے کو ملی ہے، جہاں کیا اسپورٹیج ایل، گوگو باکس ای وی، جے اے سی ٹی9 ہنٹر، ایم جی ایچ ایس ٹرافی، اور اسوزو ڈی میکس جیسے ماڈلز پہلے ہی لانچ ہو چکے ہیں۔
اب ہنڈائی بھی اپنی مقبول ایس یو وی، ٹوسان کے ہائبرڈ ماڈل کے ساتھ میدان میں اترنے والی ہے۔
دسمبر 2024 میں پاکستان میں ہنڈائی ٹوسان ہائبرڈ کو پہلی بار دیکھا گیا تھاجس کے بعد گاڑی کے ممکنہ لانچ سے متعلق قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں۔
اس وقت کمپنی نے وضاحت کی تھی کہ وہ گاڑی نجی طور پر درآمد کی گئی ہے اور کسی باضابطہ منصوبے کا حصہ نہیں لیکن انڈسٹری کے ماہرین نے اندازہ لگایا تھا کہ ہنڈائی جلد یا بدیر اپنی ہائبرڈ ایس یو وی ضرور متعارف کرائے گی، خاص طور پر کیا اسپورٹیج ایل جیسی مسابقتی گاڑیوں کی موجودگی میں۔
اب ہنڈائی کی سوشل میڈیا پوسٹ نے اس حوالے سے تصدیق کر دی ہے، جس میں بتایا ہے کہ “ہنڈائی کا انقلابی آل-ویل ڈرائیو ہائبرڈ ماڈل جلد آ رہا ہے”۔ اس سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ ٹوسان کا ہائبرڈ، آل ویل ڈرائیو ویریئنٹ پاکستان میں لانچ کے قریب ہے۔
اگرچہ مکمل خصوصیات کا اعلان ابھی باقی ہے تاہم ذرائع کے مطابق نئی ٹوسان ہائبرڈ میں جدید ترین عالمی ماڈل، آل ویل ڈرائیو سسٹم، ملٹیپل ٹیرین موڈز، ہائبرڈ پاور ٹرین، ایڈوانس ڈرائیور اسسٹنس سسٹم اور ممکنہ طور پر لانگ وہیل بیس ورژن جیسی خصوصیات شامل ہوں گی۔
ان فیچرز کی موجودگی نہ صرف اسے پاکستان کی ہائبرڈ مارکیٹ میں ایک نمایاں اضافہ بنائے گی بلکہ ایندھن کی بچت کرنے والی ایس یو ویز کے زمرے میں صارفین کو مزید معیاری آپشنز فراہم کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پاکستان میں
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔