اڈیالہ کے باہر ممکنہ دھرنا، پی ٹی آئی اراکین اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کو اسلام آباد میں رہنے کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 7th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان تحریک اںصاف کے بانی چیئرمین کی بہن علیمہ خان کے اڈیالہ جیل کے باہر ممکنہ دھرنے کے پیش نظر پی ٹی آئی کے تمام اراکین اسمبلی اور ٹکٹ ہولڈرز کو اسلام آباد میں ہی رہنے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق علیمہ خان کی جانب سے اڈیالہ جیل کے باہر ممکنہ دھرنے کے معاملے پر پی ٹی آئی نے ایم این ایز، ایم پی ایز اور ٹکٹ ہولڈرز کو اسلام آباد کے قریب رہنے کی ہدایت کی ہے۔
علیمہ خان نے کہا تھا کہ اگر منگل کوبانی چئیرمین سے ملاقات نہیں کروائی جاتی تو اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا دوں گی۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر پنجاب ملک احمد بچھڑ کی جانب سے بھی دھرنے میں شریک ہونے کا کہا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی پنجاب کی جانب سے دھرنے میں بھرپور شرکت کی یقین دہانی کرائی گئی ہے جبکہ عالیہ حمزہ نے بھی دھرنے میں شریک ہونے کی حامی بھر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی لیڈر شپ میں چند رہنما دھرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملاقات نہ ہونے کی صورت میں دھرنا دینے یا نہ دینے کا حتمی فیصلہ کور کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا اور گزشتہ روز کی بیٹھک میں اس حوالے سے فیصلہ نہیں ہوا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔