مولانا ہدایت الرحمان نے لانگ مارچ کیوں منسوخ کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 8th, April 2025 GMT
بلوچستان میں بدامنی کے واقعات میں ہوش روبا اضافہ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی اورگنائزر ماہ رنگ بلوچ سمیت کارکنان کی گرفتاری کے خلاف ایک جانب جہاں بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گزشتہ 11 روز سے لکپاس کے مقام پر لانگ مارچ کو دھرنے میں تبدیل کرکے سراپا احتجاج ہے وہیں جمہوری وطن پارٹی نے بھی رواں ماہ کی 4 تاریخ کو ڈیرہ بگٹی سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا، جس پر جمہوری وطن پارٹی کے رہنما گہرام بگٹی کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تاہم اسی دوران حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن نے بھی گوادر سے کوئٹہ تک 7 اپریل کو لانگ مارچ کا اعلان کیا لیکن ایک روز قبل ہی مارچ منسوخ کردیا گیا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حق دو تحریک کے سربراہ مولانا ہدایت الرحمن نے لانگ مارچ کیوں منسوخ کیا؟ اپنے بیان میں مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ ہم نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کی آرگنائزر ماہ رنگ بلوچ کی گرفتاری کی مذمت کی جبکہ سردار اختر مینگل کے لانگ مارچ کی بھر پور حمایت کا اعلان کیا۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ لک پاس دھرنا: حکومتی وفد اور اختر مینگل کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم
ان حالات کے تناظر میں ہم نے گوادر سے کوئٹہ تک لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا جس پر ہم نے پارٹی قیادت کارکنان اور ساتھیوں سے مشاورت کی۔ مشاورت کے بعد ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ بلوچستان کے حالات مزید کسی لانگ مارچ کے متحمل نہیں ہو سکتے اس لیے ہم امن چاہتے ہیں، مسائل کا حل چاہتے ہیں ہم اپنے بیٹیوں کی رہائی چاہتے ہیں اور لاپتا افراد کی بازیابی چاہتے ہیں اس کے علاوہ ہم پر امن طریقے سے تمام مسائل کا حل چاہتے ہیں۔
مولانا ہدایت الرحمان نے کہا کہ ہم بھرپور طریقے سے سردار اختر مینگل کے دھرنے میں شرکت کریں گے۔ ایسا نہیں کہ ہم کسی سے خوف کھا رہے ہیں ڈر رہے ہیں کسی کی دھمکی سے گھبرا رہے ہیں یہ فیصلہ صوبے کے موجودہ حالات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ میں نے حکومت سے بات کی ہے کہ وہ فوری طور پر ماہ رنگ اور اس کی پوری ٹیم کو رہا کرے، اختر مینگل کے ساتھ بامقصد مذاکرات کریں، طاقت کے استعمال سے گریز کریں، سیاسی معاملات کو سیاسی طریقے سے حل کریں اور ہم یہ نہیں چاہتے کہ مزید بدنظمی ہو مزید انتشار ہو ہم مسائل کا حل چاہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اختر مینگل کے بعد جمہوری وطن پارٹی نے بھی لانگ مارچ کا اعلان کر دیا
سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ مولانا ہدایت الرحمن کی جانب سے لانگ مارچ کو ایسے وقت پر منسوخ کرنا کسی خوف یا اندر کی علامت نہیں بلکہ سیاسی حکمت عملی ہو سکتی ہے، ایسا ممکن ہے کہ ایوان میں آنے کے بعد مولانا ہدایت الرحمن گوادر میں اپنی سابقہ پوزیشن کھو چکے ہیں اور یوں گوادر کی عوامی حمایت ان کے پاس نہیں ہوگی تو ایسے میں سردار اختر مینگل کے دھرنے میں شامل ہونا جو پہلے سے کامیاب ہو چکا ہے ایک بہتر سیاسی چال نظر آتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل جمہوری وطن پارٹی گہرام بگٹی ماہ رنگ بلوچ مولانا ہدایت الرحمان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل جمہوری وطن پارٹی گہرام بگٹی ماہ رنگ بلوچ مولانا ہدایت الرحمان مولانا ہدایت الرحمن لانگ مارچ کا اعلان جمہوری وطن پارٹی اختر مینگل کے کا اعلان کیا چاہتے ہیں ماہ رنگ
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔