معدنی وسائل کی تلاش کیلئے پاکستان کا بین الاقوامی کمپنیوں سے ایم او یو کا تبادلہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, April 2025 GMT
تقریب کے دوران جیو سائنٹفک ریسرچ کے لیے پاکستان اور چائنہ جیولوجیکل سروے کے درمیان، پاکستان اور روسی کمپنی، ڈجیٹلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان ایم او یوز کا تبادلہ ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2025ء منعقد کیا گیا۔ پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم کی تقریب کے دوران معدنی وسائل کی تلاش اور جیو سائنٹفک ریسرچ کے لیے پاکستان اور چائنہ جیولوجیکل سروے کے درمیان، پاکستان اور روسی کمپنی، ڈجیٹلائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے پاکستان اور جنوبی افریقا کے درمیان، پاکستان کے مختلف اداروں اور غیر ملکی کمپنیوں کے درمیان ایم او یوز کا تبادلہ ہوا۔ فورم میں وزیرِاعظم شہباز شریف، آرمی چیف جنرل عاصم منیر، وفاقی وزراء اور وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی۔
سعودی نائب وزیرِ معدنیات نے فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ معدنیات کی ترقی کے لیے شراکت داری کا جائزہ لیں گے، پاکستان میں معدنیات میں پوٹیشنل ہے۔ فورم سے صدر اور سی ای او بیرک گولڈ مارک بریسٹو نے بھی خطاب کیا۔ سی ای او بیرک گولڈ کا کہنا ہے کہ پاکستان معدنی وسائل کے باعث منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ بیرک گولڈ مارک برسٹو نے کہا کہ معدنیات کا حصول صنعت کے لیے بہت ضروری ہے، مستقبل میں معدنی وسائل ہی ترقی کا ذریعہ ہیں، معدنی وسائل کے ذخائر کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی کے لیے اہم کرادار ادا کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے لیے پاکستان اور کے درمیان
پڑھیں:
اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے موقع پر نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار اور چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ای کے درمیان ملاقات ہوئی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی پیش رفت اور کثیر الجہتی فورمز میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔
نائب وزیرِ اعظم محمد اسحاق ڈار نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنے پر چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای کا شکریہ ادا کیا۔
چینی وزیرِ خارجہ وانگ ای نے ایس سی او کونسل برائے سربراہانِ مملکت کی آئندہ صدارت سنبھالنے اور 2027 میں ایس سی او سربراہی اجلاس کی میزبانی کرنے پر پاکستان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔