یوکرین کا روسی فوج کے ہمراہ لڑنے والے 2 چینی فوجیوں کو گرفتار کرنے کا دعوی
اشاعت کی تاریخ: 8th, April 2025 GMT
یوکرین کا روسی فوج کے ہمراہ لڑنے والے 2 چینی فوجیوں کو گرفتار کرنے کا دعوی WhatsAppFacebookTwitter 0 8 April, 2025 سب نیوز
کیف(آئی پی ایس )یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعوی کیا ہے کہ ان کی فوج نے روسی افواج کے ہمراہ لڑنے والے دو چینی شہریوں کو گرفتار کرلیا ہے۔صدر زیلنسکی نے منگل کو سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ہماری فوج نے یوکرینی علاقے میں ڈونیٹسک کے علاقے میں روسی فوج کے ساتھ لڑنے والے دو چینی باشندوں کو گرفتار کیا ہے اور گرفتار افراد کے پاس سے ان کی دستاویزات اور بینک کارڈز بھی ملے ہیں۔
یوکرینی صدر نے اس بیان کے ساتھ ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں مبینہ طور پر ایک چینی قیدی کو دکھایا گیا ہے تاہم روس یا چین کی جانب سے اس دعوے پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔واضح رہے کہ چین اس جنگ میں غیر جانبدار رہنے کا دعوی کرتا ہے اور اس کا مقف ہے کہ وہ کسی بھی فریق کو مہلک ہتھیار فراہم نہیں کر رہا۔
یوکرینی صدر نے کہا کہ ہمارے پاس شواہد موجود ہیں کہ روسی افواج کے ساتھ کئی اور چینی شہری بھی لڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے یوکرینی وزیر خارجہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ فوری طور پر چین سے رابطہ کریں اور اس صورتحال پر چین کا مقف حاصل کریں۔یوکرینی صدر نے عالمی برداری اور بالخصوص امریکا اور یورپ سے بھی ردعمل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ روسی صدر امن کے لیے نہیں بلکہ جنگ کو طول دینے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: لڑنے والے کو گرفتار
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک