امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ٹیمی بروس نے کہا کہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ غزہ کے مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اگر ایران  مذاکرات نہیں کرتا تو اس کے لیے بہت برا ہوگا۔

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹیمی بروس نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران اور امریکا کے مابین مذاکرات ہفتے کے روز سے عمان میں شروع ہو رہے ہیں۔  دنیا کو مزید محفوظ بنانے کے لیے یقینی بنانا ہوگا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بناسکے۔  دونوں ممالک کے مابین براہ راست مذاکرات پہلی مرتبہ شروع ہو رہے ہیں۔ اس حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ کی پریس بریفنگ کے دوران سوالات کے جواب دیتے ہوئے ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹیمی بروس نے کہا کہ اگر ایران مذاکرات سے پیچھے ہٹا تو یہ ایران کے لیے بہت برا ہوگا۔  مذاکرات کا آغاز ہورہا ہے۔ صدر ٹرمپ سمجھتے ہیں کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ضرور ہونے چاہئیں۔ تاہم ایران کو کبھی جوہری ہتھیاروں تک رسائی نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیے دہشتگردی اور پرتشدد انتہا پسندی کیخلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، امریکی محکمہ خارجہ

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے بھی ملاقات کی ہے۔  اس ملاقات میں بھی اتفاق ہوا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں تک رسائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ترجمان محکمہ خارجہ نے کہا کہ غزہ کی صورت حال پر  صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ساتھ تفیصلی ملاقات کی۔ مغویوں کی رہائی کے لیے دونوں رہنماؤں نے نئی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ غزہ کے مسئلے کو ہمیشہ کے لیے حل کرنا چاہتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ٹیمی بروس نے کہا کہ روس اور یوکرین کے مابین استنبول میں مذاکرات کے عمل کا آغاز ہورہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کہہ چکے ہیں کہ آئیندہ چند ہفتوں میں یہ بات واضح ہوجائے گی کہ روس امن مذاکرات کے لیے کتنا سنجیدہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین کی جانب سے شمالی کوریا اور چینی فوجیوں کی گرفتاری کی خبریں تشویش ناک ہیں۔

یہ بھی پڑھیے کیا صدر ٹرمپ عمران خان کو رہا کروائیں گے؟ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے سوال نظر انداز کردیا

ان سے پوچھا گیا کہ یو ایس ورلڈ فوڈ پروگرام کے بند ہونے سے پوری دنیا میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، ہم نے صرف 15 فیصد فوڈ پروگرامات بند کیے گئے ہیں، 85 فیصد پروگرامات اب بھی جاری ہیں۔ انہوں نے کہ افغانستان اور یمن میں یہ پروگرامات اس لیے بند کیے گئے ہیں کہ ان دونوں ممالک میں دہشتگرد اس پروگرام سے فائدہ اٹھا  رہے تھے۔

ٹیمی بروس نے کہا کہ امریکا کو محفوظ بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ویزے منسوخ کیے جارہے ہیں۔ جنوبی سوڈان پر سفری پابندی عائد کرچکےہیں۔ یہ پابندیاں اس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک جنوبی سوڈان امریکا میں مقیم اپنے غیر قانونی شہریوں کو واپس نہیں لے گا۔ اس فیصلے پر نظرثانی نہیں کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

استنبول امریکا ایران ٹیمی بروس ڈونلڈ ٹرمپ روس غزہ نیتن یاہو یوکرین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: استنبول امریکا ایران ٹیمی بروس ڈونلڈ ٹرمپ نیتن یاہو یوکرین ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹیمی بروس نے کہا کہ انہوں نے کہ کہ ایران کے ساتھ کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام