پراپرٹی تنازع پر سابقہ بیوی کا قتل، مجرم کو مرتے دم تک پھانسی پر لٹکائے رکھنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 9th, April 2025 GMT
پراپرٹی تنازع پر سابقہ بیوی کا قتل، مجرم کو مرتے دم تک پھانسی پر لٹکائے رکھنے کا حکم WhatsAppFacebookTwitter 0 9 April, 2025 سب نیوز
راولپنڈی(سب نیوز)عدالت نے پراپرٹی تنازع پر امریکی شہریت یافتہ سابقہ بیوی کے قتل کے جرم میں شوہر کو مرتے دم تک پھانسی کے پھندے پر لٹکائے رکھنے کا حکم جاری کردیا۔
اربوں روپے کی پراپرٹی کے تنازع پر امریکی خاتون کے اغوا اور قتل کا بڑا فیصلہ سامنے آ گیا، جس میں عدالت نے مقتولہ کے سابق شوہر رضوان حبیب کو سزائے موت، 5لاکھ روپے ہرجانے کی سزا سنائی ہے۔عدالت نے اغوا کے جرم میں 10سال قید، 1لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔ اسی طرح کیس کے شواہد مٹانے کے جرم میں7سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی جب کہ شریک ملزم سلطان کو 7 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ مجرم کو اس وقت تک پھانسی کے پھندے پر لٹکائے رکھا جائے جب تک موت واقع نہ ہو جائے۔عدالت کے فیصلہ سنائے جانے کے وقت امریکی سفارت خانہ کے 3سفارت کار اور ایک ایف بی آئی آفیسر بھی موجود تھے۔ امریکی سفارت کاروں کی جانب سے سزا پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔عدالتی فیصلے کے بعد مجرم سابق شوہر رضوان حبیب کو کڑے پہرے میں اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ مجرم کا اپنی سابقہ اہلیہ وجیہہ سواتی سے اربوں روپے کی پراپرٹی کا جھگڑا چل رہا تھا۔ تمام پراپرٹی وجیہہ سواتی کی ملکیتی تھی، جس پر ملزم نے جبری قبضہ کر لیا تھا۔ ملزم نے سابق اہلیہ کو راضی نامہ کرنے کا جھانسا دے کر امریکا سے پاکستان بلایا ، جس پر وجیہہ سواتی 16اکتوبر 2021 کو پاکستان آئی ۔ملزم سابق شوہر نے پاکستان آتے ہی وجیہہ سواتی کو قتل کیا اور لاش مسخ کر کے راولپنڈی سے خیبر پختونخوا لے جاکر دفنا دی۔ قتل بعد مجرم سابق شوہر خود ہی وجیہہ سواتی کے گم ہونے کا ڈراما کرتا رہا ۔ بعد ازاں پولیس نے گرفتار کیا تو قتل کا راز اگل دیا اور لاش بھی خیبر پختون خوا سے برآمد کروا دی۔
مقتولہ کے بیٹے عبداللہ نے امریکا سے آن لائن ایف آئی آر تھانہ مورگاہ میں درج کروائی تھی۔کیس میں مجرم کو پہلے بھی پھانسی کی سزا ہوئی تھی مگر ہائی کورٹ نے کیس ریمانڈ کر دیا تھا، جس کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج چوہدری ماجد حسین گادی نے آج پھر مجرم کو سزا سنا دی۔ اس دوران امریکی ایف بی آئی ٹیم اور سفارتکار ہر تاریخ پر کیس پیروی کرتے رہے ۔قبل ازیں لاش کو پاکستان سے امریکا منتقل کرنے پر دوبارہ پوسٹ مارٹم بھی کیا گیا تھا اور امریکی سائنس فرانزک لیبارٹری نے موت وجہ تشدد قرار دے کر رپورٹ پاکستان بھیجی تھی۔ سرکاری پراسیکیوٹر عفت سلطانہ نے کیس کی مقتولہ کی جانب سے پیروی کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
اسلام آباد (وقائع نگار) انسداد دہشتگردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین کی عدالت نے 26 نومبر، سنگجانی جلسہ ، سپریم کورٹ کے باہر احتجاج و دیگر مقدمات میں 230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں و کارکنان کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی۔