مالی تنازع پر عدالت آنے والے بھائیوں پر فائرنگ، 1 جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی میں مالی تنازع پر عدالت آنے والے بھائیوں پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں ایک نوجوان جاں بحق ہوگیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق صوابی ، جہانگیرہ روڈ پر اسماعیل آباد کے مقام پر مارکیٹ کے تنازع جوڈیشل کمپلیکس شاہ منصور میں واقع عدالت میں تاریخ پیشی بھگتنے کے بعد واپس جانے والے بھائیوں پر موٹر سائیکل سوار کی فائرنگ سے ایک بھائی جاں بحق ہو گیا۔
ارسلان خان سکنہ صوابی محلہ نظر خیل نے تھانہ صوابی میں ایف آئی آر درج کراتے ہوئے بتایا کہ وہ پیر کی سہ پہر اپنے بھائیوں عبدالقادر اور ہاشم کے ہمراہ بی بی اے میں ایڈیشنل سیشن جج وی کی عدالت میں پیشی کے بعد میں اور ہاشم موٹر کار میں جبکہ عبدالقادر موٹر سائیکل پر سوار واپس جارہے تھے۔
مؤقف نے کہا کہ جب ہم اسماعیل آباد کے مقام پر پہنچے تو وہاں موٹر سائیکل پر سوار فواد اور ان کا بھائی جواد سکنہ صوابی محلہ قاسم خیل پہنچے اور فواد نے اسلحہ آتشین سے ان کے بھائی عبدالقادر پر فائرنگ شروع کردی، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔