جیل میں دہرے قتل کے مجرم نے استرا گلے پر رکھ دیا تھا،سنجے دت
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
ممبئی (شوبز ڈیسک) بالی ووڈ کے معروف اداکار سنجے دت نے انکشاف کیا ہے کہ جیل میں ایک دہرے قتل کے مجرم نے ان کی گردن پر تیز دھار استرا رکھ دیا تھا اور وہ لمحہ ان کی زندگی کا سب سے خوفناک تجربہ تھا۔
66 سالہ اداکار نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ یروادہ جیل میں ان کی داڑھی کٹوانے کے لیے ایک قیدی کو بلایا گیا، لیکن یہ عام قیدی نہیں بلکہ دہرے قتل کا خطرناک مجرم تھا۔
سنجے دت کے مطابق جیسے ہی قیدی نے استرا ان کی گردن پر رکھا، انہوں نے ازراہِ تجسس پوچھ لیا کہ وہ کس جرم میں قید ہے۔ قیدی نے جواب دیا کہ وہ 15 سال سے دہرے قتل کے جرم میں سزا کاٹ رہا ہے۔ یہ سنتے ہی اداکار کے بقول ان کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ گئی اور فوراً اس کا ہاتھ روک لیا۔
سنجے دت نے کہا کہ یہ منظر کسی فلم کے سین جیسا تھا، جہاں ایک قاتل کے ہاتھ میں استرا ہو اور سامنے ان کی گردن۔ خوش قسمتی سے وہ اس نازک لمحے میں محفوظ رہے۔
یاد رہے کہ سنجے دت کو 1993 ممبئی دھماکوں کے بعد غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں سزا ہوئی تھی اور وہ کئی برس پونا کی یروادہ جیل میں قید رہے۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز