ممبئی (شوبز ڈیسک) بالی ووڈ کے معروف اداکار سنجے دت نے انکشاف کیا ہے کہ جیل میں ایک دہرے قتل کے مجرم نے ان کی گردن پر تیز دھار استرا رکھ دیا تھا اور وہ لمحہ ان کی زندگی کا سب سے خوفناک تجربہ تھا۔

66 سالہ اداکار نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ یروادہ جیل میں ان کی داڑھی کٹوانے کے لیے ایک قیدی کو بلایا گیا، لیکن یہ عام قیدی نہیں بلکہ دہرے قتل کا خطرناک مجرم تھا۔

سنجے دت کے مطابق جیسے ہی قیدی نے استرا ان کی گردن پر رکھا، انہوں نے ازراہِ تجسس پوچھ لیا کہ وہ کس جرم میں قید ہے۔ قیدی نے جواب دیا کہ وہ 15 سال سے دہرے قتل کے جرم میں سزا کاٹ رہا ہے۔ یہ سنتے ہی اداکار کے بقول ان کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ گئی اور فوراً اس کا ہاتھ روک لیا۔

سنجے دت نے کہا کہ یہ منظر کسی فلم کے سین جیسا تھا، جہاں ایک قاتل کے ہاتھ میں استرا ہو اور سامنے ان کی گردن۔ خوش قسمتی سے وہ اس نازک لمحے میں محفوظ رہے۔

یاد رہے کہ سنجے دت کو 1993 ممبئی دھماکوں کے بعد غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں سزا ہوئی تھی اور وہ کئی برس پونا کی یروادہ جیل میں قید رہے۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: دہرے قتل جیل میں

پڑھیں:

سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی

بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔

Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy

— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 2026

59 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔

اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔

سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔

متعلقہ مضامین