سابق امریکی صدر باراک اوباما نے تیسرا ایمی ایوارڈ جیت لیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق لاس اینجلس میں منعقد کری ایئٹو آرٹس ایمی ایوارڈز میں سابق امریکی صدر نے ’بیسٹ اسٹوری ٹیلر‘ بہترین داستان گو کی کیٹیگری میں اعزاز حاصل کرلیا۔ 64 سالہ باراک اوباما نے
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
سابق امریکی صدر باراک اوباما نے تیسرا ایمی ایوارڈ جیت لیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق لاس اینجلس میں منعقد کری ایئٹو آرٹس ایمی ایوارڈز میں سابق امریکی صدر نے ’بیسٹ اسٹوری ٹیلر‘ بہترین داستان گو کی کیٹیگری میں اعزاز حاصل کرلیا۔ 64 سالہ باراک اوباما نے امریکی اسٹریمنگ پلیٹ فارم نیٹ فلکس کی سیریز ’اوو اوشین‘ کے لیے بہترین داستان گو کا ایوارڈ اپنے نام کیا تاہم انہوں نے اس تقریب میں شرکت نہیں کی۔ سابق امریکی صدر کی جانب سے ان کا ایوارڈ امریکی کامیڈین جارڈن کلیپر نے وصول کیا۔ واضح رہے کہ ایمی کے بہترین داستان گو کی کیٹیگری میں سابق امریکی صدر باراک اوباما کا یہ تیسرا ایوارڈ ہے۔ اس سے قبل اسی گیٹیگری میں 2022 میں اوو گریٹ نیشنل پارکس اور 2023 میں ’ورکنگ واٹ وی ڈو آل ڈے‘ کے لیے پرائم ٹائم ایمی ایوارڈز اپنے نام کیے تھے۔.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سابق امریکی صدر باراک اوباما میں سابق امریکی صدر باراک اوباما نے ایمی ایوارڈز ایمی ایوارڈ کا ایوارڈ اپنے نام کے لیے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔