پی ایس ایل 10: علی ظفر کا ترانے پر ہوئی تنقید پر ردِ عمل
اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT
ماضی کی طرح پاکستان سُپر لیگ (پی ایس ایل) کے 10 ویں ایڈیشن کے ترانے کے لیے بھی پاکستان کرکٹ بورڈ نے علی ظفر کی خدمات حاصل کی ہیں۔
پی ایس ایل 10 کے اینتھم میں علی ظفر کے ساتھ ساتھ معروف گلوکار ابرارالحق، نتاشہ بیگ اور طلحہٰ انجم بھی شامل ہیں۔
علی ظفر نے حال ہی میں کرکٹ پاکستان کو یو ٹیوب پلیٹ فارم پر خصوصی انٹرویو دیا ہے۔
انٹرویو کے دوران انہوں نے بتایا کہ میں کرکٹر بننا چاہتا تھا، مجھ سے سب ہی کرکٹرز بہت اچھے انداز میں ملتے ہیں، سب کرکٹرز کے لیے دل میں بہت عزت ہے۔
پرفارم نہ کرنے کی صورت میں نوجوان کرکٹرز پر سینئر کرکٹرز کی جانب سے کی جانے والی تنقید پر بات کرتے ہوئے علی ظفر نے کہا کہ تنقید تعمیری ہونی چاہیے، کسی کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا یا ذاتیات پر اتر آنا اچھی بات نہیں ہے۔
اداکار و گلوکار علی ظفر نے مزید کہا کہ سینئر کرکٹرز کو تنقید ضرور کرنی چاہیے مگر اس کے لیے بہتر اور مثبت انداز بھی اپنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے پی ایس ایل 10 کے لیے گائے گئے اپنے ترانے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کے ساتھ میرا جذباتی رشتہ ہے، آغاز سے ہی بھرپور حمایت کی اور اپنے گانے اور پرفارمنسز کے ذریعے رونق کو بڑھایا ہے، میرا مقصد ہمیشہ ایسا ترانہ بنانا ہوتا ہے جو ہر پاکستانی گنگنا سکے۔
معروف گلوکار علی ظفر کا کہنا ہے کہ میں کسی چیز میں خود کی اتھارٹی نہیں سمجھتا بلکہ ایک عاجز فنکار کے طور پر صرف کوشش کرتا ہوں، نتیجہ عوام پر ہے، اس بار ترانے میں صرف میری ہی نہیں بلکہ دیگر فنکاروں کی بھی آوازیں شامل ہیں تاکہ ہر کسی کو اپنا رنگ دکھانے کا موقع ملے۔
علی ظفر نے ترانے پر مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ کوشش ہوتی ہے کہ شاعری میں مطلب ہو اور سننے اور گانے میں آسان ہو، لوگ اسے ڈرائنگ روم، باتھ روم میں یا اسٹیڈیم میں گا سکیں، میں طبقے کو ذہن میں رکھ کر ترانہ بناتا ہوں۔
گلوکار نے اپنے ترانے پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر پی ایس ایل کا ترانہ گانے پر مجھ پر تنقید کی جا رہی ہے، جب میں نے اپنا گانا ’چھنوں‘ لانچ کیا تھا اور وہ راتوں رات مقبول ہوا تھا تو بہت سے قریبی دوستوں تک نے میرے خلاف فورمز پر لکھنا شروع کر دیا تھا۔
علی ظفر کا کہنا ہے کہ میری کامیابی پر میرے اپنے دوستوں نے کہا تھا کہ میں موسیقی کے قابل نہیں ہوں، میں نے پاکستان کے میوزک کو برباد کر دیا ہے وغیرہ وغیرہ۔
علی ظفر نے انٹرویو کے دوران یہ بھی کہا کہ جہاں عزت ملتی ہے وہاں کچھ نہ کچھ منفی باتیں بھی سامنے آتی ہیں، ان باتوں کا مقصد صرف آپ کو الجھانا اور آپ کا حوصلہ توڑنا ہوتا ہے۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پی ایس ایل علی ظفر نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔