Daily Mumtaz:
2026-06-02@23:16:56 GMT

پی ایس ایل 10: علی ظفر کا ترانے پر ہوئی تنقید پر ردِ عمل

اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT

پی ایس ایل 10: علی ظفر کا ترانے پر ہوئی تنقید پر ردِ عمل

ماضی کی طرح پاکستان سُپر لیگ (پی ایس ایل) کے 10 ویں ایڈیشن کے ترانے کے لیے بھی پاکستان کرکٹ بورڈ نے علی ظفر کی خدمات حاصل کی ہیں۔

پی ایس ایل 10 کے اینتھم میں علی ظفر کے ساتھ ساتھ معروف گلوکار ابرارالحق، نتاشہ بیگ اور طلحہٰ انجم بھی شامل ہیں۔

علی ظفر نے حال ہی میں کرکٹ پاکستان کو یو ٹیوب پلیٹ فارم پر خصوصی انٹرویو دیا ہے۔

انٹرویو کے دوران انہوں نے بتایا کہ میں کرکٹر بننا چاہتا تھا، مجھ سے سب ہی کرکٹرز بہت اچھے انداز میں ملتے ہیں، سب کرکٹرز کے لیے دل میں بہت عزت ہے۔

پرفارم نہ کرنے کی صورت میں نوجوان کرکٹرز پر سینئر کرکٹرز کی جانب سے کی جانے والی تنقید پر بات کرتے ہوئے علی ظفر نے کہا کہ تنقید تعمیری ہونی چاہیے، کسی کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا یا ذاتیات پر اتر آنا اچھی بات نہیں ہے۔

اداکار و گلوکار علی ظفر نے مزید کہا کہ سینئر کرکٹرز کو تنقید ضرور کرنی چاہیے مگر اس کے لیے بہتر اور مثبت انداز بھی اپنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے پی ایس ایل 10 کے لیے گائے گئے اپنے ترانے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کے ساتھ میرا جذباتی رشتہ ہے، آغاز سے ہی بھرپور حمایت کی اور اپنے گانے اور پرفارمنسز کے ذریعے رونق کو بڑھایا ہے، میرا مقصد ہمیشہ ایسا ترانہ بنانا ہوتا ہے جو ہر پاکستانی گنگنا سکے۔

معروف گلوکار علی ظفر کا کہنا ہے کہ میں کسی چیز میں خود کی اتھارٹی نہیں سمجھتا بلکہ ایک عاجز فنکار کے طور پر صرف کوشش کرتا ہوں، نتیجہ عوام پر ہے، اس بار ترانے میں صرف میری ہی نہیں بلکہ دیگر فنکاروں کی بھی آوازیں شامل ہیں تاکہ ہر کسی کو اپنا رنگ دکھانے کا موقع ملے۔

علی ظفر نے ترانے پر مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ کوشش ہوتی ہے کہ شاعری میں مطلب ہو اور سننے اور گانے میں آسان ہو، لوگ اسے ڈرائنگ روم، باتھ روم میں یا اسٹیڈیم میں گا سکیں، میں طبقے کو ذہن میں رکھ کر ترانہ بناتا ہوں۔

گلوکار نے اپنے ترانے پر ہونے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر پی ایس ایل کا ترانہ گانے پر مجھ پر تنقید کی جا رہی ہے، جب میں نے اپنا گانا ’چھنوں‘ لانچ کیا تھا اور وہ راتوں رات مقبول ہوا تھا تو بہت سے قریبی دوستوں تک نے میرے خلاف فورمز پر لکھنا شروع کر دیا تھا۔

علی ظفر کا کہنا ہے کہ میری کامیابی پر میرے اپنے دوستوں نے کہا تھا کہ میں موسیقی کے قابل نہیں ہوں، میں نے پاکستان کے میوزک کو برباد کر دیا ہے وغیرہ وغیرہ۔

علی ظفر نے انٹرویو کے دوران یہ بھی کہا کہ جہاں عزت ملتی ہے وہاں کچھ نہ کچھ منفی باتیں بھی سامنے آتی ہیں، ان باتوں کا مقصد صرف آپ کو الجھانا اور آپ کا حوصلہ توڑنا ہوتا ہے۔

Post Views: 1.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پی ایس ایل علی ظفر نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم

روم:   پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف