ایران پر نئی امریکی پابندیاں! فوجی طاقت کے استعمال کی دھمکی بھی دے دی
اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT
واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ نے ایران کے جوہری پروگرام سے وابستہ 5 اداروں اور ایک شخص پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کے تحت ایران پر مزید دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے تاکہ جوہری معاہدے پر ایران کو جھکایا جا سکے۔
محکمہ خارجہ کے مطابق، ان اداروں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو مدد فراہم کی، اور امریکا ان تمام عناصر کا احتساب جاری رکھے گا جو ایران کے ایٹمی عزائم کو تقویت دے رہے ہیں۔
یہ پابندیاں ایسے وقت میں لگائی گئی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات صرف دو روز بعد ہونے والے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران جوہری پروگرام بند نہ کرے تو فوجی کارروائی کا راستہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے، اور اسرائیل بھی اس کارروائی میں شامل ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایران کے
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔