نہریں نکالنے کے منصوبے کیخلاف قرارداد ایجنڈے میں شامل نہ کرنے پر پیپلزپارٹی کا قومی اسمبلی میں احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 10th, April 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )دریائے سندھ سے نہریں نکالنے کے منصوبے کے خلاف قرارداد کو قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل نہ کرنے پر پیپلزپارٹی کے اراکین قومی اسمبلی نے احتجاج کیا۔
ڈان نیوز کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی کی ترجمان شازیہ مری کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ ایکس ’ پر کی گئی ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی نے جمعرات کو پارلیمنٹ میں 6 نہروں کے منصوبے کے خلاف ایک قرارداد کو قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل نہ کرنے پر احتجاج کیا۔خیال رہے کہ نہروں کی تعمیر کی مخالفت میں قرارداد 7 اپریل کو جمع کرائی گئی تھی اور اسے نہ تو مسلم لیگ (ن) اور نہ ہی ایم کیو ایم کی حمایت حاصل ہوئی۔
شازیہ مری نے لکھا کہ ’ ایوان میں مسلم لیگ (ن) کے جواب کے باوجود، پیپلز پارٹی دریائے سندھ پر نہروں کی تعمیر کے خلاف ایک قرارداد کی منظوری کا مسلسل مطالبہ کر رہی ہے،’ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی نے آج کی کارروائی کے دوران ’ ہنگامہ آرائی’ کی۔خیال رہے کہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر نے 15 فروری کو دریائے سندھ سے نہر نکال کر جنوبی پنجاب کی زمینوں کو سیراب کرنے کے لئے چولستان کے ایک منصوبے کا افتتاح کیا تھا جس پر عوامی سطح پر غم و غصہ اور سندھ میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں۔
سندھ اسمبلی نے مارچ میں دریائے سندھ پر نئی نہروں کی تعمیر کے خلاف متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی تھی، جس میں تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ معاہدہ طے پانے تک کسی بھی منصوبے، سرگرمیوں یا کام کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
شازیہ مری نے اپنے بیان میں پنجاب کے وزرا کو اس معاملے پر ’ اشتعال انگیز اور تقسیم کرنے والے’ بیانات کا ذمہ دار ٹھہرایا جبکہ پی ٹی آئی کو اجلاس میں خلل ڈالنے پر تنبیہ کی۔
شازیہ مری نے لکھاکہ نہروں پر بحث کے دوران پی ٹی آئی کا غیر ذمہ دارانہ رویہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا، حقیقت یہ ہے کہ ان دو نہروں کی منظوری پی ٹی آئی کے دور حکومت میں (اس وقت کے وزیر اعظم) عمران نیازی نے دی تھی، جس کی سندھ نے سختی سے مخالفت کی تھی۔’
شازیہ مری نے مزید کہا کہ اگر پی ٹی آئی اس ماضی کی غلطی کا ازالہ کرنا چاہتی ہے تو اسے ہماری قرارداد کی حمایت کرنی چاہئے۔ترجمان پیپلزپارٹی نے مزید کہاکہ ہمیں اس منصوبے کے خلاف متحد ہونا پڑے گا، کیونکہ یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ ’ انہوں نے کہا کہ ’ ملک بھر میں پانی کی تقسیم 1991 کے آبی تقسیم کے معاہدے کے مطابق ہونی چاہئے۔’
شازیہ مری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ منصفانہ آبی تقسیم کے لئے جدوجہد کی ہے اور اس معاملے پر پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں رہنماو¿ں نے اس منصوبے کو ’ یکطرفہ’ قرار دیا ہے۔گرین پاکستان انیشیٹو کے حصے کے طور پر چولستان نہری منصوبے کے تحت دریائے سندھ سے 5 نہریں نکال کر کل 4.
اس منصوبے کو پنجاب کے لئے گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے مگر سندھ میں اس کی سخت مخالفت کی جارہی ہے کیونکہ سندھ کے عوام کا خیال ہے کہ اس منصوبے سے سندھ اپنے حصے کے طے شدہ پانی سے محروم ہوجائے گا۔
پنجاب حکومت نے 315دیہی مراکزصحت کوہسپتالوں کا درجہ دیدیا ، کیا کیا سہولیات فراہم کی جائیں گی ؟ اہم تفصیلات جانیے
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: شازیہ مری نے دریائے سندھ قومی اسمبلی منصوبے کے پی ٹی آئی نہروں کی کے خلاف کہا کہ کے لئے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس