حکومت نے پی آئی اے سمیت 10ادارے نجکاری کیلئے فائنل کر لئے WhatsAppFacebookTwitter 0 11 April, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس )نجکاری کمیشن نے قومی ایئرلائن اور اسٹیٹ لائف انشورنس سمیت 10 اداروں کو نجکاری کیلئے فائنل کرلیا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کا سینیٹر افنان اللہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا، جس کے شرکا کو نجکاری ڈویژن نے بریفنگ دی۔نجکاری کمیشن نے اجلاس میں نجکاری کیلیے فہرست میں موجود اداروں کے نام پیش کیے۔حکام نجکاری کمیشن نے اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ نجکاری والے اداروں کی فہرست کے فیز 1 میں 10 ادارے شامل ہیں، جن کی نجکاری 1 سال میں مکمل کرنی ہے۔

سینیٹ کمیٹی برائے نجکاری کا سینیٹرافنان اللہ خان کی صدارت میں نجکاری کمیٹی کا اجلاس ہوا، وزیراعظم کے مشیربرائے نجکاری و چیئرمین نجکاری کمیشن محمد علی شریک ہوئے۔نجکاری ڈویژن کی جانب سے قائمہ کمیٹی کو نجکاری ڈویژن بارے اراکین کو بریفنگ دی گئی۔سیکرٹری نجکاری کمیشن کی پرائیوٹائزیشن کمیشن بارے بریفنگ اجلاس میں بتایا گیا کہ نجکاری ڈویژن کے ماتحت نجکاری کمیشن کام کرتا ہے، ڈویژن کے ذمہ نجکاری کے حوالے سے تجاویز سفارشات ہیں۔انہوں نے کہا کہ نجکاری ڈویژن کو نجکاری پالیسی اگست 2024 میں سونپی گئیں، عالمی اداروں سے نجکاری سے متعلق بات چیت زمہ داریوں میں شامل ہیں۔سیکرٹری نجکاری کمیشن نے بتایا کہ نجکاری کمیشن کی زمہ داریوں میں نجکاری مراحل کی تکمیل ہے، نجکاری کمیشن سال 2000 سے پہلے فنانس ڈویژن میں شامل تھا۔ حکام نے بریفنگ میں بتایا گیا کہ کمیشن کی سربراہی چئیرمین اور ممبران اس میں شامل ہوتے ہیں، بورڈ ممبران کی تعیناتی وزیراعظم کی جانب سے دی جاتی ہے۔حکام کے مطابق بورڈ ممبران کی تعنیاتی تین سال کیلئے ہوتی ہے، بورڈ ممبران پرائیوٹ سیکٹر سے لئے جاتے ہیں، قانون کے تحت قومی اسمبلی سینیٹ سے ممبران نہیں لئے جاتے ہیں۔

نجکاری پلان کو بنانا اور پھر اسے کابینہ میں پیش کرنا زمہ داریوں میں شامل ہیں۔نجکاری کمیشن کی جانب سے نجکاری اداروں کی فہرست کمیٹی میں پیش کردی گئی، سیکرٹری نجکاری کمیشن نے کمیٹی کو بتایا کہ مجموعی طور وفاقی حکومت کے 84 ایس او ایز ہیں۔ 84 ایس او ایز میں سے 24 اداروں کی فہرست مرتب ہے۔حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نجکاری والے اداروں کی فہرست کے فیز ون میں 10 ادارے شامل ہیں، فیز ون کی فہرست والے اداروں کی نجکاری ایک سال میں مکمل کرنی ہے۔نجکاری کمیشن کے جانب سے کہا گیا کہ پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائن، اسٹیٹ لائف انشورنس شامل، یوٹیلیٹی اسٹورزکارپوریشن بھی نجکاری کی فہرست میں شامل ہے۔حکام کے مطابق کے مطابق فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ نجکاری فہرست میں شامل ہے، ہاس بلڈنگ فنانس کمپنی نجکاری، آئیسکو،فیسکو،گیپکو نجکاری کی فہرست میں شامل ہے، پی ایم ڈی سی نجکاری فہرست میں شامل نہیں ہے۔ پی ایم ڈی سی کی نجکاری سے متعلق پیٹرولیم ڈویژن کی سفارش ہے۔مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا کہ ایس او ایز کیبنٹ کمیٹی اداروں کی فہرست مرتب کرتی ہے، کابینہ کمیٹی برائے حکومتی ملکیتی ادارے 44 اداروں کو دیکھ رہی ہے۔ پی آئی اے پہلے منافع میں تھا پھر عرصہ سے نقصان میں چلا گیا۔مشیر نجکاری نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اداروں کی نجکاری میں موجودہ اور مستقبل کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے پی ایم ڈی سی کو پرائیویٹ کرنے کی منظوری دی ہے، ہیوی الیکٹریکل کمپلیکس کا نجکاری پراس مکمل کیا گیا ہے۔ سروسز انٹرنیشنل ہوٹل کی نجکاری کا مرحلہ مکمل کیا گیا ہے۔

انہوں نے کمیٹی کو بتایا کہ روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری کا مرحلہ ابھی نامکمل ہے، ہاس بلڈنگ فنانس کمپنی اس وقت نجکاری فیز میں ہے، زرعی ترقیاتی بینک نجکاری فیزمیں ہے، فنانشل ایڈوائز پروسس کا آغاز کر دیا گیا ہے۔انہوں مزید کہا کہ زیڈ ٹی بی ایل کیلئے فنانشنل ایڈوائزر کی سفارشات پر فیصلہ ہوگا، زیڈ ٹی بی ایل کو حکومت کمرشل آئیڈنٹٹی دینا چاہتی ہے، وفاقی کابینہ زیڈ ٹی بی ایل کے کام سے متعلق فیصلہ کرے گی۔اراکین کمیٹی نے کہا کہ زیڈ ٹی بی ایل کسانوں کیلئے ماں کی حیثیت رکھتا ہے، زیڈ ٹی بی ایل کسانوں کو قرض فراہم کرتا ہے۔ زرعی ترقیاتی بینک کی نجکاری کسانوں سے ظلم ہوگا۔مشیر برائے نجکاری کمیشن محمد علی نے کہا کہ زیڈ ٹی بی ایل کے نقصانات اربوں میں ہیں، زرعی ترقیاتی بینک کی بیلنس شیٹ نقصانات میں ہے، نجکاری کے بعد بینک کا پورٹ فیلو دیکھنا ہوگا۔مشیر برائے نجکاری کمیشن نے کمیٹی کو یقین دہانی کرائی کہ زیڈ ٹی بی ایل نجکاری ابتدائی مرحلے پر ہے، ہم اس کا پورا تجزیہ کریں گے دیکھیں گے۔مشیر برائے نجکاری کمیشن نے کہا کہ بینک نے قرض دئیے واپسی نہیں لے سکا بہت سے امور کو دیکھنا ہوگا، کمرشل اور اسلامک بینکنگ سیکٹر تمام امور پر سروسز دیتے ہیں۔ چیرمین کمیٹی رانا محمود الحسن نے کہا کہ زیڈ ٹی بی ایل سے متعلق وزیراعظم کو خط لکھ دیتے ہیں، کسانوں سے متعلق امور پر نمائندہ تنظیموں کو بلایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش