اہل غزہ نے اپنی قربانی سے امت کو بیدار کر دیا ہے، ڈاکٹر عمران مصطفی
اشاعت کی تاریخ: 12th, April 2025 GMT
لبیک یا اقصی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے سنی تحریک کے صوبائی صدر کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں انسانیت کو شرمندہ کر دیا ہے، مشرق و مغرب کے حکمران بے نقاب ہو چکے ہیں، اسرائیل کا ساتھ دینے والوں کو دنیا میں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ اسلام ٹائمز۔ سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد شاداب رضا نقشبندی کی خصوصی ہدایت پر ملک بھر کی طرح پاکستان سنی تحریک ملتان سٹی کے زیر اہتمام اسرائیل و امریکہ کے غزہ میں انسانیت سوز مظالم کے خلاف " لبیک یا اقصی مارچ" منعقد کیا گیا، چوک نواں شہر سے ملتان پریس کلب تک ہونے والے مارچ سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی صدر جنوبی پنجاب ڈاکٹر عمران مصطفی کھوکھر نے کہا کہ اہل غزہ نے اپنی قربانی امت کو بیدار کر دیا ہے، اسرائیل نے غزہ میں انسانیت کو شرمندہ کر دیا ہے، مشرق و مغرب کے حکمران بے نقاب ہو چکے ہیں، اسرائیل کا ساتھ دینے والوں کو دنیا میں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، مفتی منیب الرحمن صاحب نے مسلم امہ کی ترجمانی کی ہے، فتوی جہاد کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہیں.
انہوں نے کہا کہ مسلم حکمران بیدار نہ ہوئے تو انجام اسرائیل جیسا ہوگا، وقت آ گیا ہے کہ مسلم حکمران اسرائیل کے خلاف جہاد کا اعلان کریں، منت سماجت سے اسرائیلی بربریت ختم نہیں ہوگی، مارچ سے ضلعی جنرل سیکرٹری علامہ صابر اعظمی، سٹی صدر طاہر فیضی، سٹی جنرل سیکرٹری ریاض نظامی، سٹی صدر علماء بورڈ علامہ ہاشم سعیدی، صدر الخیر فاو نڈیشن ملک عامر وینس، سٹی نائب صدر عابد کالرو ودیگر نے خطاب کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کر دیا ہے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔