سٹی 42 : پی ٹی آئی رہنما مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ  پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے دہائیوں کے اتحاد نے پاکستان کو کہیں کا نہیں چھوڑا بلکہ پاکستان کے 90فیصد مسائل کی وجہ یہی اتحاد ہے۔

 اپنے بیان میں مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ جو حکومت میں ہیں وہی ملک اور عوام کے مسائل کا سبب ہیں اور اچنبھے کی بات ہے عوام کو یہ امید دلائی جارہی ہے کہ وہ ان کے مسائل حل کریں گے ،ملک اور عوام کی گھمبیر مشکلات کو اگر کوئی لیڈر حل کر سکتا ہے تو وہ صرف بانی پی ٹی آئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جب کسی تقریب میں پاکستان کے مسائل پر مگر مچھ کے آنسو بہاتے ہیں تو عوام ان کے بہکاوے میں نہیں آتے بلکہ جھولیاں اٹھا کر دہائیوں سے حکومتیں کرنے والوں کو کوستے ہیں ۔

لاہور پریس کلب ہاؤسنگ سکیم ایف بلاک میں بجلی کی تنصیب کا افتتاح

انہوں نے کہا کہ عوام کا موجودہ حکمرانوں سے سوال ہے ملک کی ابتر صورتحال اور بد حالی کے ذمہ دار کون ہیں اور جب آپ سے بار بار یہ سوال پوچھا جائے تو آپ پیکا ایکٹ کا سہارا لے لیتے ہیں ،آج ساری قو م آپ سے اپنی بد حالی کا سوال پوچھ رہی ہے ۔

 مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے مسائل حل نہیں ہو رہے بلکہ بڑھ رہے ہیں،ان کے حل کیلئے دور اندیشی کے ساتھ دلیرانہ فیصلے کرنا ہوں گے جو موجودہ حکمرانوں کی بس کی بات نہیں ہے ۔

سندھ حکومت اپنی اداؤں پر غور کرے: وزیر اطلاعات پنجاب

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ کے مسائل

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • مریم نواز کی کارکردگی پر لاہور کے عوام کی رائے کیا ہے؟
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان