داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیراتی لاگت میں اضافہ؛ واپڈا کی وضاحت
اشاعت کی تاریخ: 13th, April 2025 GMT
اسلام آباد:
داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی تعمیراتی لاگت میں اضافے کے معاملے پر واپڈا نے وضاحت جاری کر دی۔
ترجمان واپڈا کے مطابق پراجیکٹ کی لاگت میں اضافے کا تقریباً 85 فیصد ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں کمی پر مشتمل ہے۔ 2014 میں امریکی ڈالر کی قدر 100 پاکستانی روپے جبکہ 2025 میں 280 روپے ہے۔
واپڈا نے اپنی وضاحت میں کہا ہے کہ 15 فیصد اضافہ پراجیکٹ کی پیچیدہ نوعیت کی وجہ سے اسکوپ آف ورک میں اضافہ کی وجہ سے ہے۔
قراقرم ہائی وے کی ازسر نو تعمیر سمیت دیگر کنٹریکٹس بین الاقوامی مسابقتی بولی کے ذریعے ایوارڈ کیے گئے ہیں، یہ کنٹریکٹس بنیادی طور پر پاکستانی روپے میں ایوارڈ کیے گئے ہیں۔
واپڈا ٹیم کے ساتھ ساتھ پراجیکٹ کے لیے بین الاقوامی شہرت یافتہ کنسلٹنٹس کی خدمات بھی حاصل کی گئیں، کنسلٹنٹس کی ٹیم 130 انجینیئرز پر مشتمل ہے جن میں کم و بیش 30 غیر ملکی ماہرین بھی شامل ہیں۔
واپڈا ہر سال اوسطاً 32 ارب یونٹ سستی پن بجلی نیشنل گرڈ کو مہیا کرتا ہے، واپڈا پن بجلی کا ٹیرف محض 3روپے 71 پیسے فی یونٹ ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ واپڈا پن بجلی ملک میں بجلی کے صارفین کے لیے اوسط ٹیرف کو کم سطح پر رکھنے کا سب سے بڑا عنصر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پراجیکٹ کی
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا