Juraat:
2026-06-03@04:25:35 GMT

سندھ بلڈنگ کے مرکزی دفتر پر چھاپا، 9 افسران زیر حراست

اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT

سندھ بلڈنگ کے مرکزی دفتر پر چھاپا، 9 افسران زیر حراست

ایس بی سی اے افسران کو لیاری میں بلڈنگ گرنے کے واقعے پر حراست میں لے لیا گیا ہے۔ گرفتار افسران میں ڈائریکٹر آصف رضوی، جلیس صدیقی، اشفاق کھوکھر،  ڈپٹی ڈائریکٹر  فہیم مرتضی، عاصم انصاری،  دیگر شامل ہیں۔  افسران کو ڈی جی کے سامنے ان کے ناموں سے شناخت کے بعد گرفتار کیا گیا

گرفتار ڈائریکٹر میں آصف رضوی گزشتہ سال ریٹائرڈ ہوچکے تھے۔ آصف رضوی کو ڈی جی ایس بی سی اے نےاجلاس میں شرکت کے لئےبلایا تھا۔ چھاپے کے وقت ڈی جی ایس بی سی اے افسران کے ساتھ میٹنگ کر رہے تھے۔ ڈائریکٹر جنرل کے سامنے ان کی میٹنگ سے 6افسران کوحراست میں لیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اوپر سے گرفتاری کے احکامات ہیں۔ گرفتار ایس بی سی اے کے افسران نامعلوم مقام پر منتقل کر دیے گئے۔ چھاپے کے دوران مرکزی دفتر کے آنے جانے والے راستے سیل کر دیے گئے۔  کسی بھی شخص کو دفتر کے اندر یا باہر انے کی اجازت نہیں تھی۔

اطلاعات کے مطابق پولیس کے ہمراہ ٹیکنیکل ٹیم کے اراکین بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ 2021 سے 2025 کے عرصے میں ڈسٹرکٹ ساوتھ میں   اضافی پورشنزڈالنے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: ایس بی سی اے

پڑھیں:

خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔

(جاری ہے)

انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

متعلقہ مضامین

  • اٹلی‘ 4 پاکستانی قتل: مکمل معلومات نہیں ملیں: دفتر خارجہ 
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 9 ڈاکو گرفتار
  • وفاقی جماعتوں کے تمام مرکزی قائدین گلگت بلتستان انتخابات میں متحرک
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے