سندھ بلڈنگ کے مرکزی دفتر پر چھاپا، 9 افسران زیر حراست
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
ایس بی سی اے افسران کو لیاری میں بلڈنگ گرنے کے واقعے پر حراست میں لے لیا گیا ہے۔ گرفتار افسران میں ڈائریکٹر آصف رضوی، جلیس صدیقی، اشفاق کھوکھر، ڈپٹی ڈائریکٹر فہیم مرتضی، عاصم انصاری، دیگر شامل ہیں۔ افسران کو ڈی جی کے سامنے ان کے ناموں سے شناخت کے بعد گرفتار کیا گیا
گرفتار ڈائریکٹر میں آصف رضوی گزشتہ سال ریٹائرڈ ہوچکے تھے۔ آصف رضوی کو ڈی جی ایس بی سی اے نےاجلاس میں شرکت کے لئےبلایا تھا۔ چھاپے کے وقت ڈی جی ایس بی سی اے افسران کے ساتھ میٹنگ کر رہے تھے۔ ڈائریکٹر جنرل کے سامنے ان کی میٹنگ سے 6افسران کوحراست میں لیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اوپر سے گرفتاری کے احکامات ہیں۔ گرفتار ایس بی سی اے کے افسران نامعلوم مقام پر منتقل کر دیے گئے۔ چھاپے کے دوران مرکزی دفتر کے آنے جانے والے راستے سیل کر دیے گئے۔ کسی بھی شخص کو دفتر کے اندر یا باہر انے کی اجازت نہیں تھی۔
اطلاعات کے مطابق پولیس کے ہمراہ ٹیکنیکل ٹیم کے اراکین بھی موجود تھے۔ واضح رہے کہ 2021 سے 2025 کے عرصے میں ڈسٹرکٹ ساوتھ میں اضافی پورشنزڈالنے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ایس بی سی اے
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔