Nawaiwaqt:
2026-07-24@15:13:33 GMT

فتنے سے کوئی ڈیل ممکن نہیں: اسحاق ڈار

اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT

فتنے سے کوئی ڈیل ممکن نہیں: اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہمارے دین میں فتنے سے کوئی ڈیل ممکن نہیں۔ لندن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے 9 مئی کے واقعات میں حصہ لیا، وہ اب اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ اگر کسی کو قانونی عمل کے نتیجے میں سزا ہوئی ہے تو حکومت اس میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ ذرائع کے مطابق لندن میں میڈیا سے گفتگو میں اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ جو لوگ سیاست کرنا چاہتے ہیں، انہیں پاکستان واپس آ کر سیاسی میدان میں حصہ لینا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک بیٹھ کر لاکھوں ڈالر خرچ کر کے پاکستانی اداروں کو بدنام کرنا نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ اس کا سخت نوٹس لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوازشریف سیاست میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں اور وفاقی و صوبائی حکومتیں ان سے مشاورت کرتی ہیں۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ حکومت ایک لاکھ ساٹھ ہزار ہنرمند افراد کو بیلاروس بھیجنے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ ملک کے نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آ سکیں۔ نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بات چیت اسی وقت ممکن ہے جب مخالفین سرینڈر کریں اور آئین و قانون کے دائرے میں آئیں۔پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران میں پیش آنے والا واقع بہت افسوس ناک ہے۔ مقتول افراد کے لواحقین سے رابطے میں ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستانیوں کے قتل کی ایرانی حکومت نے ملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی کرائی ہے۔نائب وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ن لیگ نے ہمیشہ اوورسیز پاکستانیوں کی کاوشوں کی قدر کی، میں اسی ماہ وفد کے ساتھ افغانستان کا دورہ کروں گا۔اسحاق ڈار نے کہا کہ لاکھوں ڈالرز دے کر لیٹراسپانسر کرنے، لابیز کرنے اور مسلح افواج کو بدنام کرنے سے گھٹیا کوئی کام نہیں۔ وطن ماں کی طرح ہوتا ہے اور ماں کے خلاف ایسی حرکتیں کرنے والوں کو شرم آنی چاہئے۔ اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ حکومت بسنت تہوار منانے پر نظرثانی کر رہی ہے، حفاطتی اقدامات کے ساتھ بسنت کو منایا جانا چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے کہا کا کہنا تھا کہ کہا کہ

پڑھیں:

پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟

پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔

اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔

تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:

البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔

’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4  ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘

مزید پڑھیں:

گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔

’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘

انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:

’اگر ہفتے میں 2  دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘

ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔

گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔

’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • غیر ضروری وزارتیں ختم کرکے 5 ہزار ارب کی بچت ممکن ہے، سینیٹ کمیٹی
  • حکومت کا فوری طور پر 10 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ
  • 20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ