ہمارا نظریاتی و سیاسی اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ریاست پر کوئی اختلاف نہیں، گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 14th, April 2025 GMT
اوورسیز پاکستانی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ ایس آئی ایف سی منصوبہ ون ونڈو آپریشن ہے جہاں سے سرمایہ کاروں کو بھرپور معاونت فراہم کی جا رہی ہے، اڑان پاکستان کے تحت قومی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اوورسیز پاکستانی اس میں اپنا حصہ ضرور ڈالیں۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ ہمارا نظریاتی اور سیاسی اختلاف ہوسکتا ہے لیکن ریاست پر اختلاف نہیں ہوسکتا کیونکہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں پہلے اوورسیز پاکستانی کنونشن سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گورنر سندھ نے مزید کہا کہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر معیشت کے مزید استحکام کے لئے شب و روز محنت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی منصوبہ ون ونڈو آپریشن ہے جہاں سے سرمایہ کاروں کو بھرپور معاونت فراہم کی جا رہی ہے، اڑان پاکستان کے تحت قومی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اوورسیز پاکستانی اس میں اپنا حصہ ضرور ڈالیں۔ گورنر سندھ نے 77 سالہ تاریخ میں اس سال سب سے زیادہ زرمبادلہ بھیجنے پر اوورسیز پاکستانیوں کو مبارک باد بھی دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اوورسیز پاکستانی گورنر سندھ رہی ہے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک