پی ٹی آئی کو توقع چھوڑ کر کورٹ میں فائٹس کرنا چاہیے
اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT
لاہور:
گروپ ایڈیٹر ایکسپریس ایاز خان کا کہنا ہے یہ جو 3عزت مآب کانگریس مین آئے تھے آرمی چیف سے بھی طویل ملاقات ہو گئی، آج کرتارپور کا بھی دورہ کر لیا، تھوڑی دیر پہلے خبر آئی تھی کہ جاتی عمرہ میں بھی انھوں نے ملاقاتیں کر لیں، دورے کو شاندار بھی قرار دیدیا وہ یہاں آکر بہت خوش ہوئے.
ایکسپریس نیوز کے پروگرام ایکسپرٹس میں گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بنیادی طور پر اس دورے کا اہتمام وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کیا تھا.
تجزیہ کار فیصل حسین نے کہا کہ جو لوگ مایوس ہو رہے ہیں وہ احمق ہیں اور جو لوگ مطمئن ہو رہے ہیں ان کا اطمینان سمجھ سے بالاتر ہے، اس وفد نے آنے سے پہلے یہ تو نہیں کہا تھا کہ وہ عمران خان کو رہا کرانے آ رہے ہیں اور رہا کرا کہ ہی جائیں گے یہ تو تحریک انصاف نے اپنے طور پر ہی امیدیں باندھ لیں اور ان امیدوں کا پرچار بھی شروع کر دیا، اسی طرح یہ اطمینان کہ امریکا مکمل طور پر عمران خان سے لاتعلق ہو گیا ہے اب پاکستان کے اندرونی معاملات میں یا سیاسی معاملات میں اب کبھی بات نہیں کرے گا یہ اطمینان بھی فضول ہے.
تجزیہ کار نوید حسین نے کہا کہ میرے خیال میں گورنمنٹ نے سکھ کا سانس لیا ہے،گورنمنٹ نے رائٹلی سکھ کا سانس لیا ہے بیکاز جب سے ٹرمپ ایڈمنسٹریشن آئی تھی جب سے ٹرمپ نے الیکشن جیتا تھا تو ہمارے پالیسی ساز ڈیسپریٹ تھے، ٹرمپ نے خود جب کانگریس میں اسپیچ کی، پاکستان کا شکریہ ادا کیا، اب مارکو روبیو جو ٹرمپ انتظامیہ میں امریکا کے وزیر خارجہ ہیں ان کا دیکھنے کا ہے کہ وہ پاکستان کو کس نظر سے دیکھیں گے.
تجزیہ کار عامر الیاس رانا نے کہا کہ یہ دورہ اس لیے اہمیت کا حامل تھا کہ جیک وارن برگ مین فری عمران خان کے ٹویٹ بھی کر چکے تھے پی ٹی آئی کو بڑی امیدیں تھیں اور ہیں بھی لیکن فی الحال ان کی جوسیاسی جوتیوں میں دال بٹ رہی ہے، اصل بات یہ ہے کہ ان کی طرف سے میسج کیا آیا ہے؟، میسج تو انھوں نے امریکا پاکستان تعلقات پر بات کی ہے.
تجزیہ کار محمد الیاس نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ایویں توقعات لگا لی جاتی ہیں کہ جو بھی آئے گا باہر سے وفد آئے گا کانگریس مین آئیں گے یا جو بھی آئے گا امریکنز آتے ہیں ان کی نجات کے لیے کچھ کرے گا، ایسی صورتحال نہیں، اب تو ان کو یقین ہو جانا چاہیے کہ انھوں نے نہیں کچھ کرنا جو کچھ کرنا ہے خود ہی کرنا ہے، اگر کرنا ہوتا تو ٹرمپ نے اس ٹائم کر دینا تھا،اب پی ٹی آئی کو توقع چھوڑ دینی چاہیے اور کورٹ میں فائٹس کرنی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی تجزیہ کار نے کہا کہ انھوں نے
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔