کراچی: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر سزائیں و جرمانے بڑھانے کی تجاویز
اشاعت کی تاریخ: 15th, April 2025 GMT
— فائل فوٹو
کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر سزائیں اور جرمانے بڑھانے کی تجاویز سامنے آ گئیں۔
چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیرِ صدارت ٹریفک قوانین میں اصلاحات سے متعلق اجلاس ہوا، جس میں آئی جی سندھ غلام نبی میمن، کمشنر کراچی سید حسن نقوی سمیت متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اجلاس میں ڈی آئی جی ٹریفک اور سیکریٹری ٹرانسپورٹ نے موٹر وہیکل آرڈیننس 1965ء میں مجوزہ ترامیم پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ قوانین کی خلاف ورزی پر موٹر بائیک سے لے کر ہیوی ٹرانسپورٹ کے لیے بھاری جرمانے کی تجویز ہے، فیس لیس ٹکٹس سسٹم کی تجویز بھی ہے جو خودکار نمبر پلیٹ کی شناخت اور اسپیڈ کیمروں سے جرمانے جاری کرے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایات پر صوبے بھر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ تمام نئے ڈرائیورز کے لیے ڈرائیونگ کورس لازمی کرنے کی ترمیم کی بھی تجویز ہے، گاڑیوں کی رجسٹریشن کی مدت 6 ماہ سے کم کر کے 1 ماہ کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ تمام کمرشل گاڑیوں میں ٹریکنگ اور سیفٹی ڈیوائسز کی تنصیب کی بھی تجویز ہے، صوبے میں چلنے والی تمام کمرشل گاڑیوں میں ڈیش کیم اور کیبن کیمرا لگانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
اجلاس میں ٹریفک انجینئرنگ بیورو میں اصلاحات کے لیے چیف سیکریٹری نے فنڈز فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی۔
چیف سیکریٹری سندھ نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر سزائیں اور جرمانے بڑھائے جائیں گے۔
چیف سیکریٹری نے پولیس اور محکمۂ ٹرانسپورٹ کو ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ نئے ٹریفک قوانین اور جرمانوں کے بارے میں عوامی آگاہی مہم شروع کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر چیف سیکریٹری
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔